دیباچہ تفسیر القرآن — Page 186
جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور مصر اُنہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔یہ وفد حبشہ گیا اور بادشاہ سے ملا اورامرائے دربار کو اُنہو ں نے خوب اُکسایا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے بادشاہِ حبشہ کے دل کو مضبوط کر دیا اور اُس نے باوجود اِن لوگوں کے اصرار کے اور باوجود درباریوں کے اصرار کے مسلمانوں کو کفّار کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔جب یہ وفد ناکام واپس آیا تو مکہ والوں نے ان مسلمانوں کو بُلانے کے لئے ایک اور تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ حبشہ جانے والے بعض قافلوں میں یہ خبر مشہور کر دی کہ مکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔جب یہ خبر حبشہ پہنچی تو اکثر مسلمان خوشی سے مکہ کی طرف واپس لوٹے مگر مکہ پہنچ کر اُن کو معلوم ہو اکہ یہ خبر محض شرارتاً مشہور کی گئی تھی اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔اس پر کچھ لوگ تو واپس حبشہ چلے گئے اور کچھ مکہ میں ہی ٹھہر گئے۔اِن مکہ میں ٹھہرنے والوں میں سے عثمان بن مظعونؓ بھی تھے جو مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے۔اِس دفعہ ان کے باپ کے ایک دوست ولید بن مغیرہ نے ان کو پناہ دی اور وہ امن سے مکہ میں رہنے لگے۔مگر اس عرصہ میں انہو ں نے دیکھا کہ بعض دوسرے مسلمانوں کو دکھ دئیے جاتے ہیں اور اُنہیں سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔چونکہ وہ غیر تمند نوجوان تھے ولید کے پاس گئے اور اُسے کہدیا کہ میں آپ کی پناہ کو واپس کرتا ہوں کیونکہ مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے مسلمان دکھ اُٹھائیں اور میں آرام میں رہوں۔چنانچہ ولید نے اعلان کر دیا کہ عثمان اب میری پنا ہ میں نہیں۔اس کے بعد ایک دن لبید عرب کا مشہور شاعر مکہ کے رئوساء میں بیٹھا اپنے شعر سنا رہا تھا کہ اُس نے ایک مصرع پڑھا وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَامَحَا لَۃَ زَائِلٌ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر نعمت آخر مٹ جانے والی ہے۔عثمان نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں ہمیشہ قائم رہیںگی۔لبید ایک بہت بڑا آدمی تھا یہ جواب سن کر جوش میں آگیا اور اُس نے کہا اے قریش کے لوگو! تمہارے مہمان کو تو پہلے اس طرح ذلیل نہیں کیا جا سکتا تھا اب یہ نیا رواج کب سے شروع ہوا ہے؟ اِس پر ایک شخص نے کہا یہ ایک بیوقوف آدمی ہے اِس کی بات کی پرواہ نہ کریں۔حضرت عثمانؓ نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا بیوقوفی کی کیا بات ہے جو بات میں نے کہی ہے وہ سچ ہے۔اس پر ایک شخص نے اُٹھ کر زور سے آپ کے منہ پر گھونسا مارا جس سے آپ