دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 183

خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو۔آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔اب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا ترازو رکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کی جائے گی۔عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں وہ مٹا دیئے جائیں گے اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کردی جائے گی۔کفّارِ مکہ کی ابو طالب کے پاس شکایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقلال جب یہ تعلیمیں بار بار مکہ والوں کو سنائی جانے لگیں اور شریف الطبع لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم نے آپ کے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کچھ نہیں کہا۔اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں یا تو آپ اُسے سمجھائیں اور اس سے پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے چاہتا کیا ہے۔اگر اُس کی خواہش عزت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اسے اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اُس کو دینے کے لئے تیار ہے۔اگر اُسے شادی کی خواہش ہے تو مکہ کی ہرلڑکی جو اُسے پسند ہو اُس کا نام لے ہم اُس سے اُس کا بیاہ کرانے کے لئے تیا ر ہیں۔ہم اِس کے بدلہ میں اُس سے کچھ نہیں چاہتے اور کسی بات سے نہیں روکتے۔ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا کہنا چھوڑ دے۔وہ بیشک کہے خدا ایک ہے مگر یہ نہ کہے کہ ہمارے بت بُرے ہیں۔اگرو ہ اتنی بات مان لے تو ہماری اس سے صلح ہو جائے گی۔آپ اُسے سمجھائیں اور ہماری تجویز کے قبول کرنے پر آمادہ کریں۔ورنہ پھر دو باتوں میں سے ایک ہو گی یا آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا پڑے گا یا آپ کی قوم آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دے گی۔ابوطالب کے لئے یہ بات نہایت ہی شاق تھی۔عربوں کے پاس روپیہ پیسہ تو تھوڑا ہی ہوتا تھا ان کی ساری خوشی اُن کی ریاست میں ہوتی تھی۔رؤساء قوم کے لئے زندہ رہتے تھے اور قوم