دیباچہ تفسیر القرآن — Page 182
کرتے تھے۔تم خدا ئے واحد پر ایمان لاؤ، اِن پتھرکے بتوں کو چھوڑ دو کہ یہ بالکل بے کار ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔اے مکہ والو! کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے سامنے جو نذرو نیاز رکھی جاتی ہے اگر اس پر مکھیوں کا جھرمٹ آ بیٹھے تو وہ ان مکھیوں کو اُڑانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے، اگر کوئی اُن پر حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کرسکتے، اگر کوئی اُن سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دے سکتے، اگر کوئی ان سے مدد مانگے تو وہ اس کی مدد نہیں کرسکتے۔مگر خدائے واحد تو مانگنے والوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔سوال کرنے والوں کو جواب دیتا ہے۔مدد مانگنے والوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو زیر کرتا ہے اور اپنے عبادت گذار بندوں کو اعلیٰ ترقیات بخشتا ہے۔اُس سے روشنی آتی ہے جو اس کے پرستاروں کے دلوں کو منور کردیتی ہے۔پھر تم کیوں ایسے خدا کو چھوڑ کر بے جان بتوں کے آگے جھکتے ہو اور اپنی عمر ضائع کررہے ہو۔تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہوگئے ہیں۔تم قسم قسم کی وہمی تعلیموں میں مبتلا ہو۔حلال وحرام کی تم میں تمیز نہیں رہی۔اچھے اور بُرے میں تم امتیاز نہیں کرسکتے۔اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو، اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو اور ان کے حق اُنہیں نہیں دیتے۔اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔یتامیٰ کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے بُرا سلوک کرتے ہو۔غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہو اور دوسروں کے حق مار کر اپنی بڑائی قائم کرنا چاہتے ہو۔جھوٹ اور فریب سے تم کو عار نہیں۔چوری اور ڈاکہ سے تم کو نفرت نہیں۔جوا اور شراب تمہارا شغل ہے۔حصولِ علم اور قومی خدمت کی طرف تمہاری توجہ نہیں۔خدائے واحد کی طرف سے کب تک غافل رہوگے۔آؤ اور اپنی اصلاح کرو اور ظلم چھوڑ دو۔ہر حق دار کو اُس کا حق دو۔خدا نے اگر مال دیا ہے تو ملک و قوم کی خدمت اور کمزوروں اور غریبوں کی ترقی کے لئے اُسے خرچ کرو۔عورتوںکی عزت کرو اور ان کے حق ادا کرو۔یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور اُن کی خبر گیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔بیواؤں کا سہارا بنو۔نیکیوں اور تقویٰ کو قائم کرو۔انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ۔اس دنیا میں تمہارا آنا بیکار نہ جانا چاہئے۔اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑو، تا دائمی نیکی کا بیج بویا جائے۔حق لینے میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے۔پس تم قربانی کرو، خدا کے قریب ہو