دیباچہ تفسیر القرآن — Page 171
اُن کا لڑکا مکہ میں ہے۔چنانچہ وہ مکہ میں آئے اور پتہ لیتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے بچہ کو آزاد کر دیں اور جتنا روپیہ چاہیں لے لیں۔آپ نے فرمایا زید کو تو میں آزاد کر چکا ہو ں وہ بڑی خوشی سے آپ لوگوں کے ساتھ جاسکتا ہے۔پھر آپ نے زید کو بُلوا کر اُس کے باپ اور چچا سے ملوا دیا۔جب دونوں فریق مل چکے اور آنسوئوں سے اپنے دل کی بھڑاس نکال چکے تو زید کے باپ نے اُس سے کہا کہ اِس شریف آدمی نے تم کو آزاد کر دیا ہے تمہاری ماں تمہاری یاد میں تڑپ رہی ہے اب تم جلدی چلو اور اُس کے لئے راحت اور تسکین کا موجب بنو۔زیدنے کہا ماں اور باپ کس کو پیارے نہیں ہوتے میرا دل بھی اِس محبت سے خالی نہیں ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اِس قدر میرے دل میں داخل ہو چکی ہے کہ اس کے بعد میں آپؐ سے جدا نہیں ہو سکتا۔مجھے خوشی ہے کہ میں نے آپ لوگوں سے مل لیا لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونا میری طاقت سے باہر ہے۔زید کے باپ اور چچا نے بہت زور دیا مگر زید نے اُن کے ساتھ جانا منظور نہ کیا۔زید کی اِس محبت کو دیکھ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا۔زید آزاد تو پہلے ہی تھا مگر آج سے یہ میرا بیٹا ہے۔۱۸۷؎ اِس نئی صورتِ حالات کو دیکھ کر زید کے باپ اور چچا واپس وطن چلے گئے اور زید ہمیشہ کے لئے مکہ کے ہو گئے۔غارِ حرا میں خدا کی عبادت کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب تیس سال سے زیادہ ہوئی تو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت پہلے سے زیادہ جوش مارنے لگی۔آخر آپ شہر کے لوگوں کی شرارتوں، بدکاریوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک پتھروں سے بنی ہوئی چھوٹی سی غار میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے لگ گئے۔حضرت خدیجہؓ چند دن کی غذا آپ کے لئے تیار کر دیتیں۔۱۸۸ ؎ آپ وہ لے کر حرا میں چلے جاتے تھے اوراُن دو تین پتھروں کے اندر بیٹھ کر خد اتعالیٰ کی عبادت میں رات اور دن مصروف رہتے تھے۔پہلی قرآنی وحی جب آپ چالیس سال کے ہوئے تو ایک دن آپ نے اِسی غار میں ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ ایک شخص آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ’’پڑھیئے‘‘۔