دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 170

سے پوچھا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے کہا میرے پاس کوئی مال نہیں ہے جس سے میں شادی کروں۔اُس سہیلی نے کہا اگر یہ مشکل دور ہو جائے اور ایک شریف امیر عورت سے آپ کی شادی ہو جائے تو پھر؟ آپ نے فرمایا وہ کون عورت ہے؟ اُس نے کہا خدیجہؓ۔آپ نے فرمایا میں اُس تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں؟ اِس پر اُس سہیلی نے کہا کہ یہ میرے ذمہ رہا۔آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔تب خدیجہؓ نے آپ کے چچا کی معرفت شادی کا فیصلہ پختہ کیا اور آپ کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی۔ایک غریب و یتیم نوجوان کے لئے دولت کا یہ پہلا دروازہ کھلا، مگر اُس نے اِس دولت کو جس طرح استعمال کیا وہ ساری دنیا کیلئے ایک سبق آموز واقعہ ہے۔غلاموں کی آزادی اور زیدؓ کا ذکر آپ کی شادی کے بعد جب حضرت خدیجہؓ نے یہ محسوس کیا کہ آپ کا حساس دل ایسی زندگی میں کوئی لطف نہیں پائے گا کہ آپ کی بیوی مالدار ہو اور آپ اُس کے محتاج ہوں تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اپنا مال اور اپنے غلام آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے کہا خدیجہ! کیا سچ مچ؟ جب اُنہوں نے پھردوبارہ اقرار کیا تو آپ نے فرمایا میرا پہلا کام یہ ہو گا کہ میں غلاموں کو آزاد کردوں۔چنانچہ آپ نے اُسی وقت حضرت خدیجہ کے غلاموں کو بُلایا اور فرمایا تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ غرباء ہیں تقسیم کر دیا۔جو غلام آپ نے آزاد کئے اُ ن میں ایک زید نامی غلام بھی تھا۔وہ دوسرے غلاموں سے زیادہ زیرک اور زیادہ ہوشیار تھا کیونکہ وہ ایک شریف اور معزز خاندان کا لڑکا تھا جسے بچپن میں ڈاکو چرا کر لے گئے تھے اور وہ بکتا بکاتا مکہ میں پہنچا تھا۔اُس نوجوان نے اپنی زیرکی اور ہوشیاری سے اس بات کو سمجھ لیا کہ آزادی کی نسبت اِس شخص کی غلامی بہت بہتر ہے۔جب آپ نے غلاموں کو آزاد کیا جن میں زید بھی تھا تو زید نے کہا آپ تو مجھے آزاد کرتے ہیں پر میں آزاد نہیں ہوتا، میں آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں۔چنانچہ وہ آپ کے ساتھ رہا اور روز بروز آپ کی محبت میں بڑھتا چلا گیا۔چونکہ وہ ایک مالدار خاندان کا لڑکا تھا اُس کے باپ اور چچا ڈاکوئوں کے پیچھے پیچھے اپنے بچہ کو تلاش کرتے ہوئے نکلے۔آخراُ نہیں معلوم ہو اکہ