دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 163

رکھ کر آپ کی زندگی کے حالات کی حقیقت کو انسان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔آپ مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اورآپ کی پیدائش شمسی حساب سے اگست ۵۷۰ء میں بنتی ہے۔آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد رکھا گیا جس کے معنے تعریف کئے گئے کے ہیں۔جب آپ پیدا ہوئے اُس وقت تمام کا تمام عرب سوائے چند مستثنیات کے مشرک تھا۔یہ لوگ اپنے آپ کو ابراہیم ؑ کی نسل میں سے قرار دیتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ ابراہیم ؑ مشرک نہیں تھے لیکن اِس کے باوجود وہ شرک کرتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ بعض انسان ترقی کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے ایسے قریب ہوگئے ہیں کہ اُن کی شفاعت خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ضرور قبول کی جاتی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا وجود بہت بلند شان والا ہے اُس تک پہنچنا ہر ایک انسان کا کام نہیں کامل انسان ہی اُس تک پہنچ سکتے ہیں اس لئے عام انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنائیں اور اس وسیلہ کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور مدد حاصل کریں۔اس عجیب و غریب عقیدہ کی رو سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو موحّد مانتے ہوئے اپنے لئے شرک کا جواز بھی پیدا کرلیتے تھے۔ابراہیم ؑبڑا پاکباز تھا۔وہ خدا کے پاس براہ راست پہنچ سکتا تھا مگر مکہ کے لوگ اس درجہ کے نہیں تھے اس لئے انہیں بعض بڑی ہستیوں کو وسیلہ بنانے کی ضرورت تھی۔جس غرض کے حصول کے لئے وہ ان ہستیوں کے بُتوں کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح بخیالِ خود اُن کو خوش کرکے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنا وسیلہ بنالیتے تھے۔اس عقیدہ میں جو تقائص اور بے جوڑ حصے ہیں اُن کے حل کرنے کی طرف اُن کا ذہن کبھی گیا ہی نہیں تھا کیونکہ کوئی موحّد معلم ان کو نہیں ملا تھا۔جب شرک کسی قوم میں شروع جاتا ہے تو پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ایک سے دوبنتے ہیں اور دوسے تین۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت خانہ کعبہ میں (جو اب مسلمانوں کی مقدس مسجد ہے اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیھما السلام کا بنایا ہوا عبادت خانہ ہے) مؤرخین کے قول کے مطابق تین سَو ساٹھ بُت تھے گویا قمری مہینوں کے لحاظ سے ہردن کے لئے ایک علیحدہ بُت تھا۔اِن بُتوں کے علاوہ اِرد گرد کے علاقوں کے بڑے بڑے قصبات میں اور بڑی بڑی اقوام کے مراکز میں علیحدہ بُت تھے گویا عرب کا چپہ چپہ شرک میں مبتلا ہورہا تھا۔عرب لوگوں میں زبان کی تہذیب اور اصلاح کا خیال بہت زیادہ تھا انہوں نے اپنی زبان کو