دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 164

زیادہ سے زیادہ علمی بنانے کی کوشش کی مگر اس کے سوا اُن کے نزدیک علم کے کوئی معنی نہ تھے۔تاریخ ، جغرافیہ، حساب وغیرہ علوم میں سے کوئی ایک علم بھی وہ نہ جانتے تھے۔ہاں بوجہ صحراء کی رہائش اور اس میں سفر کرنے کے علم ہیئت کے ماہر تھے۔سارے عرب میں ایک مدرسہ بھی نہ تھا۔مکہ مکرمہ میں کہاجاتا ہے کہ صرف چند گنتی کے آدمی پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔اخلاقی لحاظ سے عرب ایک عجیب متضاد قوم تھی۔اُن میں بعض نہایت ہی خطرناک گناہ پائے جاتے تھے اور بعض ایسی نیکیاں بھی پائی جاتی تھیں کہ جواُن کی قوم کے معیار کو بہت بلند کردیتی تھیں۔شراب نوشی اور قمار بازی عرب شراب کے سخت عادی تھے اور شراب کے نشہ میں بے ہوش ہوجانا یا بکواس کرنے لگنا اُن کے نزدیک عیب نہیں بلکہ خوبی تھا۔ایک شریف آدمی کی شرافت کی علامتوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور ہمسائیوں کو خوب شراب پلائے۔امراء کے لئے دن کے پانچ وقتوں میں شراب کی مجلسیں لگانا ضروری تھا۔جوا اُن کی قومی کھیل تھی مگر اُس کو انہوں نے ایک فن بنالیا تھا۔وہ جو ا اس لئے نہیں کھیلتے تھے کہ اپنے اموال بڑھائیں بلکہ جوئے کو انہوں نے سخاوت اور بڑائی کا ذریعہ بنایا ہوا تھا۔مثلاً جوا کھیلنے والوں میں یہ معاہدہ ہوتا تھا کہ جو جیتے وہ جیتے ہوئے مال سے اپنے دوستوں اور اپنی قوم کی دعوتیں کرے۔جنگوں کے موقع پر جوئے کو ہی روپیہ جمع کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔جنگ کے ایام میں آجکل بھی لاٹری کا رواج بڑھ رہا ہے مگر یورپ اور امریکہ کے لاٹری بازوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس ایجاد کا سہرا عربوں کے سر ہے۔جب کبھی جنگ ہوتی تھی تو عرب قبائل آپس میں جوا کھیلتے تھے اور جو جیتتا تھا وہ جنگ کے اکثر اخراجات اُٹھاتا تھا۔غرض دنیاکی دوسری آسائشوں اور سہولتوں سے محروم ہونے کا بدلہ عربوں نے شراب اور جوئے سے لیا تھا۔تجارت عرب لوگ تاجر تھے اوراُن کے تجارت کے قافلے دور دور تک جاتے تھے۔ایبے سینیا سے بھی وہ تجارت کرتے تھے اور شام اور فلسطین سے بھی وہ تجارت کرتے تھے ہندوستان، سے بھی ان کے تجارتی تعلقات تھے۔ان کے امراء ہندوستان کی بنی ہوئی تلواروں کی خاص قدر کرتے تھے۔کپڑا زیادہ تریمن اورشام سے آتا تھا۔یہ تجارتیں عرب