دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 149

ہی ہے اور کوئی نہیں۔(ج) انجیل میں لکھا ہے کہ:۔’’ یوحنا کے پاس لوگ آئے اور اُس سے پوچھا کہ کیا وہ مسیح ہے؟ تو اس نے کہا میں مسیح نہیں ہوں۔تب انہوں نے اُس سے پوچھا تو اور کون ؟ کیا تُو الیاس ہے؟ اُس نے کہا میں نہیں ہوں۔پھر انہوں نے اُس سے پوچھا آیا تُو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔‘‘۱۷۲؎ پھر آگے چل کر لکھا ہے:۔’’ انہوں نے اُس سے سوال کیا اور کہا کہ اگر تو نہمسیحؑ ہے نہ الیاس اور نہ وہ نبی۔پس کیوں بپتسمہ دیتا ہے‘‘۔۱۷۳؎ اِن آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کے وقت یہود میں تین بشارتیں مشہور تھیں۔اوّل: الیاس دوبارہ دنیا میں آنے والا ہے۔دوم: مسیح پید ا ہونے والا ہے۔سوم: وہ نبی یعنی موسیٰ کا موعود نبی آنے والا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین وجود الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔الیاس الگ وجود تھا۔مسیح الگ وجود تھا اور ’’ وہ نبی‘‘ الگ وجود تھا۔حضرت مسیح فرما چکے ہیں کہ یوحنا الیاس ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔’’ الیاس جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو‘‘۔۱۷۴؎ اور لوقاباب ا آیت ۱۷ سے بھی پتہ لگتا ہے کہ حضرت یوحنا کی پیدائش سے پہلے اُن کے والد حضرت زکریا سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا’’ وہ اس سے آگے الیاس کی طبیعت اور قوت کے ساتھ چلے گا‘‘۔پھر مرقس باب ۹ آیت ۱۳ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا:۔’’ میں تم سے کہتا ہوں الیاس تو آچکا‘‘۔پھر متی باب ۱۷ آیت ۱۲ میں لکھا ہے:۔’’ پر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آچکا۔لیکن اُنہوں نے اُس کو نہیں پہچانا۔