دیباچہ تفسیر القرآن — Page 4
سے کسی کا بھی حوالہ نہیں آتا، صرف ادنیٰ اور عوام الناس کی دلچسپی کے لئے لکھی ہوئی تفاسیر کا حوالہ آتا ہے اور اگر کسی بڑی تفسیر کا حوالہ ہوتا ہے تو کسی دوسری تفسیر سے نقل کیا ہوا ہوتا ہے خود اس کتاب کو پڑھ کر استفادہ کیا ہوا نہیں ہوتا۔(۴) کسی علمی کتاب کو سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ نہ صرف اُس زبان کا علم ہو جس میں وہ کتاب لکھی ہوئی ہے، نہ صرف اُن تفاسیر پر عبور ہو جو اُس زبان یا علم کے ماہروں نے لکھی ہیں بلکہ خود اُس کتاب کا بھی اِس قدر گہرا مطالعہ ہو کہ اس کی اپنی اصطلاحات اور محاورات اور ان اصول کا علم حاصل ہو جائے جن کے گرد اُس کی تعلیم کی فروع چکر کھاتی ہیں۔اگر یہ علم نہ ہو تو تفسیروں کی مدد سے بھی کوئی شخص صحیح ترجمانی نہیں کر سکتا۔چونکہ یہ درجہ کسی مغربی مترجم یا شارح قرآن کو حاصل نہ تھا اس لئے ان کے نوٹ بعض دفعہ مضحکہ خیز حدتک جا پہنچتے ہیں۔(۵) ہر زمانہ اپنے ساتھ نئے علوم لاتا ہے۔ان علوم کی ہر علمی کتاب کی تعلیم ایک نئی تنقید کا شکار ہوتی ہے اور اس کے مطالب یا زیادہ واضح ہو جاتے ہیں یا زیادہ مشکوک ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔پس موجودہ زمانہ کے علوم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تفسیر ضروری تھی تا معلوم ہو سکے کہ وہ موجودہ علوم کی روشنی میں اپنی ہادیانہ شان کس حد تک قائم رکھ سکا ہے یا اس کی شان کس حد تک آگے سے بھی زیادہ روشن ہوگئی ہے۔جب قرآن کریم کی پہلی تفاسیرلکھی گئیں اُس وقت عربی زبان میں مکمل بائبل موجود نہ تھی بلکہ اُس کے جن ٹکڑوں کے تراجم عربی زبان میں ہوئے تھے وہ بھی مفسرین کی دسترس سے باہر تھے اس وجہ سے پرانے مفسرین نے قرآن کریم کے ان مضامین کی طرف جن میں موسوی سلسلہ کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے صرف اپنے علم کے مطابق روشنی ڈالی ہے، جو بعض دفعہ نہایت مایوس کن اور بعض دفعہ مضحکہ خیز ہو جاتی ہے۔مغربی مصنفین ان کی غلطیوں کو قرآن کریم کی طرف منسوب کر کے ہنسی اُڑاتے ہیں حالانکہ ان مفسروں نے جو کچھ لکھا بائبل کو پڑھ کر نہیں لکھابلکہ یہودی اور مسیحی علماء سے پوچھ کر لکھا تھا۔بعض دفعہ اُن