دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 144

کی سرحدوں سے برابر چھیڑ چھاڑ جاری رہی جس کے نتیجہ میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کر کے اس طرف بھجوایا اور آخر حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میںرومیوں اور مسلمانوں میں باقاعدہ لڑائی چھڑ گئی اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایران اس لڑائی میں شامل ہو گیا اور آپ کی زندگی میں ہی دونوں حکومتیں تباہ اور برباد ہو گئیں اور دُور سرحدوں پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن کر رہ گئیں۔اِس پتھر کے متعلق یسعیاہ اور متی میں بھی خبریں دی گئی ہیں۔چنانچہ یسعیاہ باب ۸ آیت ۱۴ میں ایک آنے والے موعود کے متعلق لکھا ہے:۔’’ وہ تمہارے لئے ایک مقدس ہو گاپر اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹکر کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان۔‘‘ پھر آیت ۱۵ میں لکھا ہے:۔’’ بہت سے لوگ اُن سے ٹھوکر کھائیں گے اور گریں گے اور ٹوٹ جائیں گے۔‘‘ اور متی باب ۲۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ موعود جسے پتھر کہا گیا ہے مسیح نہیں بلکہ مسیح کے بعد آنے والا دوسراشخص ہے:۔اور آیت ۴۴ میں اس کی یہ شان بیان کی گئی ہے کہ:۔’’ جو اِس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا‘‘۔اِسی طرح زبور باب ۱۱۸ آیت ۴۲ میں لکھا ہے: ’’ وہ پتھر جسے معماروں نے ردّ کیا کونے کا سِرا ہو گیا‘‘۔متی باب ۲۱ میں بھی اِس پیشگوئی کی طر ف اشارہ کیا گیا ہے اور لکھا ہے: ’’یسوع نے اُنہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سِرا ہوا‘‘۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اِس پیشگوئی کے متعلق خود حضرت مسیح کا فیصلہ ہے کہ یہ پیشگوئی اُن پر صادق نہیں آتی بلکہ اُس وجود پر صادق آتی ہے جو بیٹے کے صلیب پر لٹکا دینے کے بعد ظاہر ہو گا۔عیسائی لوگ اپنی خوش فہمی سے اِس سے مراد کلیسیا لیتے ہیں حالانکہ کلیسیا اِس پیشگوئی سے مراد ہو ہی نہیں سکتا۔کیونکہ دانیال نبی کی خواب میں رومی حکومت جو کلیسیاکی نمائندہ تھی تانبے کی