دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 119

آپ ہی موسیٰ کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار قدوسیوں کے سردار ہونے کی حیثیت میں فاران کی چوٹیوں پر سے گزر تے ہوئے مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔آپ ہی وہ شخص تھے جن کا کلام صحیح معنوں میں دنیا کے لئے مُر ثابت ہوا ہے اور اس میں انسانی اصلاح کے لئے تمام قواعد بیان کر دئیے گئے ہیں جو بعض قومو ں کے منہ میں کڑوے معلوم ہوتے ہیں گو ہیں وہ کرم کش اور خوشبو دار۔اور آپ ہی ہیں جن کا نام محمد تھا۔عیسائی مصنف اِس پیشگوئی سے گھبرا کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس موعود کا نام محمدنہیں بلکہ محمدیم لکھاہے۔لیکن یہ اعتراض ایک بے معنی اعتراض ہے۔تورات نے تو خدا کو بھی ’’ الوہیم‘‘ لکھا ہے۔عبرانی زبان کا قاعدہ ہے کہ وہ اعزاز اور اکرام کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کر دیتی ہے۔اُردو زبان میں بھی ہم دیکھتے ہیںکہ اعزاز کے موقع پر جمع کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اگر ایک اُردولیکچرار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کوئی لیکچر دے گا تو آخر میں کہے گا یہ ہیں ہمارے محمد۔حالانکہ اس کی مراد یہ ہو گی کہ گو ہمارا آقا محمد تو ایک ہی شخص ہے لیکن میں آپ کے اعزاز کے طور پر جمع کا لفظ بولتا ہوں۔(ب) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک اور پیشگوئی غزل الغزلات باب ۴ میں بیان ہوئی ہے۔اس میں حضرت سلیمان اپنی محبوبہ کو بہن بھی کہتے ہیں اور ساتھ ہی زوجہ بھی کہتے ہیں چنانچہ غزل الغزلات باب ۴ آیت ۹ میں اپنی محبوبہ کی نسبت کہتے ہیں:۔’’ اے میری بوا میری زوجہ‘‘ پھر آیت ۱۰ میںلکھا ہے:۔’’ اے میری بہن میری زوجہ‘‘۔پھر آیت ۱۲ میں لکھا ہے۔’’ میری بوا میری زوجہ‘‘۔اِن دونوں الفاظ کا جوڑ بتاتا ہے کہ آنے والا محبوب بنو اسمٰعیل میں سے ہوگا۔جیسے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہوگا۔چونکہ حضرت سلیمان اس کو ایک معشوق کی صورت میں پیش کر رہے ہیں اِس لئے انہوں نے بجائے بھائی کے بہن کا لفظ استعمال