دیباچہ تفسیر القرآن — Page 109
خلاصہ یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے بعثت محمدیہ سے قریباً ۱۹ سَو سال پہلے یہ خبر دی تھی کہ موسوی شریعت الٰہی کلام کا آخری نقطہ نہیں ابھی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مزید ہدایتوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ آخری زمانہ میں ایک اور مأمور بھیجے گا وہ مأمور دنیا کے سامنے سب سچائیوں کو پیش کرے گا اور وہی انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ ہوگا اس پیشگوئی کے مطابق دنیا میں ابھی ایک اور کتاب اور ایک اور نبی کی ضرورت تھی۔پس قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائبل اور موسیٰ اور عیسیٰ کی بعثت کے بعداگر دنیا کی ہدایت کا دعویٰ کیا تو وہ بالکل حق بجانب اور خدا تعالیٰ کے کلام کو پورا کرنے والے تھے۔قرآن کریم غیرضروری نہ تھا بلکہ اگر قرآن کریم نہ آتا تو خد اتعالیٰ کی بتائی ہوئی بہت سی باتیں ظہور میں نہ آتیں اور دنیا بد اعتقادی اور شک کے مرض میں مبتلا ہوجاتی۔تیسری پیشگوئی۔جبلِ فاران سے دس ہزار قدوسیوں کیساتھ ایک عظیم الشان نبی کا ظہور استثناء باب ۳۳ میں لکھا ہے۔’’ اور اُس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑسے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا او ر اُس کے دہنے ہاتھ میںایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی‘‘۔۱۱۹؎ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِس کلام میں اپنے تین جلوے بتائے ہیں۔ان میں سے پہلا جلوہ سینا سے ظاہر ہوا۔اِس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تورات میں لکھا ہے:۔’’ اور خداوند کو ہِ سینا پہاڑ کی چوٹی پر نازل ہوا اور خدا وند نے پہاڑ کی چوٹی پر موسٰی ؑکو بلایا اور موسٰی ؑچڑھ گیا‘‘۱۲۰؎ یہ خدائی جلوہ ظاہر ہوا اور جو جو برکتیں اِس میں پوشیدہ تھیں وہ دنیا پر ظاہر کر کے چلاگیا۔اس کے بعد دوسرے جلوے کا ذکر کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ شعیر سے طلوع ہو گا۔شعیر وہ مقام ہے جس کے آس پاس حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات ظاہر ہوئے۔پس شعیر سے طلوع ہونے کے معنی حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کے ہیں۔مسیحی علمائے اناجیل نے نہ معلوم کیوں شعیر کو سینا کا مترادف قرار دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شعیر فلسطین کا حصہ ہے۔یہ نام مختلف