دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 108

باوجود اس کے کہ اُس وقت کی زبردست حکومتیں آپ کے مقابلہ پر آئیں سب پاش پاش ہو گئیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامیاب اور با مراد انسان کی حیثیت میں فوت ہوئے۔آپ کی ساری قوم آپ کی وفات سے پہلے آپ پر ایمان لے آئی اور آپ کی وفات کے چند سال بعد ہی آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے ساری دنیا میں اسلام پھیل گیا۔اگر موسیٰ خدا کا راستباز نبی تھا اور اگر استثناء کی یہ پیشگوئی واقعہ میں خدا کی طرف سے تھی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کے مدعی تھے کیا اِس طرح کامیاب و کامران ہو سکتے تھے جیساکہ وہ ہوئے؟ اور کیا آپ کے دشمن آپ کو قتل کرنے میں اس طرح ناکام ہو سکتے تھے جیسا کہ ہوئے؟ یہی نہیں کہ اتفاقی طور پر آپ دشمن کے حملوں سے بچ گئے ہوں بلکہ موسیٰ کی اس پیشگوئی کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم نے بڑے زور شور سے عربوں کے سامنے یہ اعلان کر دیا تھا کہ۱۱۷؎ یعنی اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانوں کے حملوں سے بچائے گا اور آپ کی جان کی حفاظت کرے گا۔اسی طرح آپ کے مخالفوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کریم نے یہ فرما دیا تھا کہ۱۱۸؎ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا سوائے برگزیدہ رسولوں کے۔پھر جب وہ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے تو وہ اُس کے آگے اور پیچھے اس کی حفاظت کے سامان کرتا رہتا ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اُس نے ایک خاص کام کے لئے بھیجا ہے تو وہ اُنہیں بغیر حفاظت کے نہیں چھوڑے گا اور دشمن کو آپ کے مارنے پر قادر نہیں کرے گا۔اِ ن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام اتفاقی انجام نہیں تھا بلکہ آپ نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کو خدا تعالیٰ دشمن کے حملوں سے بچائے گا اور دشمن آپ کے قتل کر نے میں کامیاب نہیں ہوگا۔اس طرح آپ نے دنیا کو ہوشیار کر دیا تھا کہ میں استثناء باب ۱۸ آیت ۲۰ کی پیشگوئی کے مطابق قتل نہیں کیا جائوں گا کیونکہ میں جھوٹا نہیں بلکہ حقیقی طور پر موسیٰ کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔