دیباچہ تفسیر القرآن — Page 98
تُو ایک برکت ہو گا اور اُن کو جو تجھے برکت دیتے ہیں برکت دوں گا اور اُس کو جوتجھ پر لعنت کرتا ہے لعنتی کروں گا اور دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پاویں گے‘‘۔۹۲؎ اسی طرح لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا:۔’’ کہ یہ تمام ملک جو تُو اب دیکھتا ہے میں تجھ کو اور تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے دوںگا‘‘۔۹۳؎ پھر پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۰ تا ۱۲ میں لکھا ہے:۔’’ پھر خدا وند کے فرشتے نے اُسے ( یعنی ہاجرہ سے) کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھائوںگاکہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے اور خداوند کے فرشتے نے اُسے کہا کہ تُو حاملہ ہے اور ایک بیٹا جنے گی اُس کا نام اسماعیل رکھنا کہ خداو ند نے تیرا دُکھ سن لیا۔وہ گورخر سا ہو گا اُس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اُس کے برخلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بودوباش کرے گا‘‘۔پھر اسی بائبل میں لکھا ہے:۔’’ پھر خدا نے ابراہام سے کہا کہ تُو اور تیرے بعد تیری نسل پشت درپشت میرے عہد کو نگاہ رکھیں اور میر اعہد جومیرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو سو یہ ہے کہ تم میںسے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیاجائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کرو اور یہ اُس عہد کا نشان ہو گا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے‘‘۔۹۴؎ پھر لکھا ہے:۔’’ اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہیں ہوا وہی شخص اپنے لوگوں میں سے کٹ جائے کہ اُس نے میرا عہد توڑا‘‘۔۹۵؎ پھر لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ کو بھی ایک بیٹے کی بشارت دی تھی اور فرمایا کہ:۔’’ میں اُسے برکت دوں گا اور اُس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا یقینا میںاُسے