دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 96

اور پرجا پتی کو ان کا پیدا کرنے والا قرار دے دیا۔دیوتائوں کی تعداد کے متعلق اختلاف ۴۔گو ہم مانتے ہیں کہ وید جب بھی نازل ہوئے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے اور یقینا وہ توحید کی تعلیم پر مشتمل تھے مگر موجودہ وید وہ نہیں جو کہ شروع میں رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ان میںکثرت کے ساتھ شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے بلکہ اس کثرت کے ساتھ کہ اس نے توحید کی تعلیم کو دبا لیا ہے۔چنانچہ اِس بارہ میں بھی جو تعلیم ویدوں میں بیان ہوئی ہے اُس کی ہم چند مثالیں دیتے ہیں:۔یجروید میں لکھا ہے کہ:۔’’دیوتا کل ۳۳ ہیں۔۱۱زمین میں ۱۱ آسمان اور ۱۱ اُوپر جنت میں‘‘۔رگوید منڈل نمبر ۳ سُوکت۹ منتر ۹ میں لکھا ہے کل دیوتا ۳۳۴۰ ہیں۔۳۳۴۰ کی تعداد اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ رگوید کے بیان کے مطابق ۳۳۳۹ دیوتائوں نے مل کر آگ دیوتا کو گھی سے سینچا اور اُس کے پاس گئے۔پس ۳۳۳۹ میں ایک جمع ہوا تو ۳۳۴۰ ہو گئے۔چنانچہ رگوید منڈل نمبر ۱۰ سُوکت نمبر ۵۲ منتر ۶ میں صاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کل دیوتا ۳۳۴۰ہیں۔ویدوں میں دیوتائوں کے متعلق اتنا اختلاف حیرت انگیز ہے کہیجر وید میں تو دیوتا ۳۳ قرار دیئے گئے ہیں اور رگوید میں ۳۳۴۰۔توحید کو چھوڑنا ہی ایک نہایت خطرناک بات تھی مگر جو خیالی دیوتا تجویز کئے گئے ان کی تعداد میں بھی اتنا اختلاف کہ وہ کبھی ۳۳ ہو جاتے ہیں اور کبھی۳۳۴۰۔یہ اختلاف یقینا انسان کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ بے شک جب وید نازل ہوئے ہوں گے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں گے مگر موجودہ وید ہرگز انسان کی روحانیت کو تسلی نہیں دے سکتے اور اِن کے بعد اور ان کے باوجود بھی ایک ایسی کتاب کی دنیا کو ضرورت تھی جو ہر قسم کی خلافِ اخلاق، متناقض، ظالمانہ اور وہموں سے پُر تعلیموں سے پاک ہو اور یہی کتاب قرآن کریم ہے۔