دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 91

بنادے؟ یقینا یہ تعلیم نہ صرف ظالمانہ ہے بلکہ خدا تعالیٰ پر بھی نہایت گندہ الزام لگانے والی ہے۔ہمارا خدا وہ مہربان آقا ہے جس کے احسانوں سے دنیا کا کوئی بھی گوشہ خالی نہیں ہے۔زمین کے اوپر بسنے والی مخلوق اور زمین کے نیچے بسنے والی مخلوق اور ہوائوں میں اُڑنے والی مخلوق ساری کی ساری اپنی قابلیت اور اپنی طاقتوں کے مطابق اُس کے فضلوںاور اُس کے احسانوں کے نیچے پرورش پا رہی ہے۔ا س نے تمام بنی نوع انسان کو ایک قسم کے دماغ اور ایک قسم کے افکار اور ایک قسم کی قوتیں عطا کی ہیں۔وہ پاکیزہ جذبات جو انسان کو روحانیت کی اعلیٰ فضا میں اُڑا کر لے جاتے ہیںاُن سے ہمیں نہ یورپ کے لوگ محروم نظر آتے ہیں نہ امریکہ کے لوگ محروم نظر آتے ہیں نہ ایشیا کے لوگ محروم نظر آتے ہیں نہ ہندوئوں کے دل اُن سے زیادہ پاک ہیں نہ اُن کی فکریں اُن سے زیادہ بلند ہیں۔پھر کیسے ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی اکثر مخلوق کو ہدایت سے محروم کرد یتا اور صرف ۶/۱ مخلوق کو ہدایت کا اہل قرار دیتا۔یہ تعلیم خود چلا چلا کر کہہ رہی ہے کہ ویدوں کے بعد ایک اور ایسی کتاب کی دنیا کو ضرورت تھی جو ساری دنیا کو خد اتعالیٰ کی ہدایت کے لئے بلائے اور عجمی او ر عربی کوایک صف میں لا کر کھڑا کر دے اور وہ تمام بنی نوع انسان کی ہمددری اور محبت کی تعلیم دینے والی ہو اور ذلیل اور ادنیٰ اقوام اُس کے نزدیک حقیر نہ ہوں بلکہ دوسروں سے زیادہ قابل امداد اور دوسروں سے زیادہ قابل رحم اور دوسروں سے زیادہ قابل ہمدردی ہوں اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم نازل ہوا تھا۔ویدوں میں توہمات وید ایسی تعلیموں سے بھی بھرے ہوئے ہیں جو محض توہمات پر مبنی ہیں۔مثلاً ویدوں میں عناصر کو دیوتائوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔آجکل بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف صفاتِ الٰہیہ کے نام ہیں مگر ہم ویدوں میں دیکھتے ہیں کہ آگ جلا کر اُس پر تیل اور دوسری قیمتی چیزیں چھڑکنے کا حکم ہے جیسا کہ رگوید کی دوسری کتاب کے دسویں منتر کے چوتھے شلوک سے ثابت ہوتا ہے اور اِن چیزوں کے چھڑکنے کے متعلق یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ گویا اگنی کی خوراک ہیں۔ا گراگنی وغیرہ صفاتِ الٰہیہ ہیں تو پھر آگ جلا کر اُن پر