دیباچہ تفسیر القرآن — Page 90
اُسے ملک سے نکال دے یا سرین کٹوا دے‘‘۔۱۰۔پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱ میں بھی لکھا ہے کہ:۔’’ براہمن بغیر کسی شک و شبہ کے شودر کا مال ودولت لے لے کیونکہ شودر کا تو اپنا کچھ بھی نہیں بلکہ اُس کا سب کچھ اُس کے مالک براہمن کا ہی ہے‘‘۔۱۱۔ادھیائے نمبر ۸شلوک ۴۱۳ میں لکھا ہے:۔’’ شودر چاہے براہمن کا خریدا ہو اہو یا نہ خریدا ہوا ہو براہمن اُس سے ضرور غلامی کرائے کیونکہ برہما جی نے شودر کو پیدا ہی غلامی کے لئے کیا ہے‘‘۔۱۲۔پھرادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱۴ میں لکھا ہے:۔’’ شودر آزاد کرنے پر بھی آزاد نہیں ہو سکتا بلکہ غلام ہی رہتا ہے کیونکہ غلامی شودر کی فطرتی چیز ہے وہ بھلا اُس سے علیحدہ ہو سکتی ہے‘‘۔۱۳۔پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۲۷۲ میں لکھا ہے:۔’’ اگر شودر فخر کے ساتھ مذہبی مسائل بتانے شروع کر دے تو تیل کو خوب گرم کر کے اُس کے کانوں میں بھر دو‘‘۔اس تعلیم سے ظاہر ہے کہ ہندو دھرم کے نزدیک سوائے چند مخصوص ذاتوں کے باقی سب لوگ خدا تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رحم سے محروم ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن کے لئے ویدوں کا پڑھنایا سنایا جانا گناہ ہے اور اگر وہ ایسی عبادت سے کام لیں کہ ویدوں کو پڑھیں یا سنیں یا یاد کریں تو اُن کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے حتیٰ کہ اُنہیں قتل تک کر دینا چاہئے۔یہ تعلیم بتاتی ہے کہ ویدک دھرم صرف چند اقوام کے لئے تھا اور عالمگیر مذہب نہیں تھا۔برہمنوں، کھتریوں اور ویشوں کے سِوا خدا تعالیٰ کی بہت سی مخلوق دنیا میں اور بھی پائی جاتی ہے۔یہ قومیں تو صرف ہندوستان کی آبادی کا ایک حصہ ہیں مگر اُن سے کئی گناآبادی اور ہندوستان سے باہر ملتی ہے۔اِس تعلیم کی موجودگی میں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ کسی صورت میں بھی ہدایت پا سکتے ہیں۔مگر کیا خدائے رحیم و کریم کا یہ قانون ہو سکتا ہے؟ کیا ممکن ہے کہ وہ دنیا کے ایک حصہ کو ہدایت کے لئے پیدا کر دے اور دوسرے حصہ کو اپنی تقدیر کے ساتھ دوزخی