دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 77

ہ۔لوقا باب ۱۱ آیت ۲۴ تا ۲۶ میں لکھا ہے:۔’’ جب ناپاک روح آد می سے باہر نکلتی ہے تو سوکھی جگہوں میں آرام ڈھونڈتی ہے اور جب نہیں پاتی تو کہتی ہے کہ میں اپنے گھر کو جس سے نکلی ہوں پھر جائوںگی اور یہ کہ اسے جھاڑا ہوا اور آراستہ پاتی ہے تب جاکے اَور سات روحیں جو اُس سے بدتر ہیں اپنے ساتھ لاتی ہے اور وے اس میں داخل ہوکے وہاں بستی ہیں اور اُس آدمی کا پچھلا حال پہلے سے بُرا ہوتا ہے‘‘۔یہ کیسے وہمی خیالات ہیں۔اوّل یہ بیان کر نا کہ ناپاک روح آدمی میں سے نکل کر سُوکھی جگہ میں آرام ڈھونڈتی پھرتی ہے اور پھر سات اَور گندی روحیں لے کر واپس آجاتی ہے۔کیا کوئی عقلمند انسان اِن باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ اور کیا اِن باتوں کو حضرت مسیح اور خدا کے کلام کی طرف منسوب کرنا جائز ہو سکتا ہے؟ جھوٹ بہت ہی بُری چیز ہے اوروہم بھی ایک نہایت گندی مرض ہے۔لیکن جھوٹ اور وہم کو خدا تعالیٰ کے نبیوں اور خدا تعالیٰ کے کلام کی طرف منسوب کرنا تو اور بھی ظالمانہ فعل ہے اور انجیل کے نادان دوستوں نے اِس جرم کا ارتکاب کر کے اُسے دنیا کی ہدایت دینے والی کتابوں سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا ہے۔انجیل کی خلافِ اخلاق باتیں ا۔مرقس باب ۱۱ آیت ۱۲ تا ۱۴ میں لکھا ہے: ’’ صبح کو جب وہ بیت عنیاہ سے باہر آئے تو اُس کو بھوک لگی اور دور سے انجیر کا ایک درخت پتوں سے لدا ہوا دیکھ کے وہ گیا کہ شاید اس میں کچھ پاوے۔جب وہ اُس پاس آیا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔تب یسوع نے اُس سے خطاب کر کے کہا کہ کوئی تجھ سے پھل نہ کھاوے‘‘۔اِس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ:۔(الف) مسیح باوجود یکہ ایک ایسے ملک کے رہنے والے تھے جہاں انجیر کثرت سے ہوتی ہے مگر وہ ایسے ناواقف تھے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ انجیر کے درخت کو کب