دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 57

مصنف معقول آدمی نہیں تھے۔خدا تعالیٰ کے نبیوں کے خاص حواری معقول ہوا کرتے ہیں۔پس ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ حواریوں نے اصل میں کوئی انجیل نہیں لکھوائی تھی۔وہ زبانی باتیں کہتے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے اُن کی زبانی باتوں میں اپنے خیالات مِلا دئیے اور اس طرح وہ اناجیل متضاد باتوں کا مجموعہ بن کر رہ گئیں۔اناجیل کی تحریف و تبدل کے متعلق عیسائی علماء کے خیالات اندورنی شہادت پیش کرنے کے بعد اب ہم انجیل کے متعلق بعض عیسائی علماء کے خیالات درج کرتے ہیں۔(الف) تفسیر ہارن جلد ۴ حصہ دوم باب ۴ مطبوعہ ۱۸۸۲ء میں لکھاہے:۔’’ کلیسیا کے قد ماء مؤرخین سے اناجیل کی تالیف کے زمانہ کے متعلق جو حالات ہم تک پہنچے ہیں ایسے غیر معیّن اور ابتر ہیں کہ کسی ایک امر معیّن کی طرف نہیں پہنچاتے اور پُرانے قدماء نے اپنے وقت کی گپوں کو سچ سمجھ کر لکھ دیا اور اُن لوگوں نے جو اُن کے بعد ہوئے ادب کر کے ان لوگوں کے لکھے ہوئے کو قبول کر لیا اور یہ روایات سچی اور جھوٹی ایک لکھنے والے سے دوسرے لکھنے والے کو پہنچیں اور مدتِ درازکے گزر جانے کے بعد اُن کی تنقید مُتَعَزَّرْ ہو گئی‘‘۔(ب) پھر اس جلد میں لکھا ہے کہ :۔’’ پہلی انجیل ۳۷ یا ۳۸ یا ۴۱ یا ۴۳ یا ۴۸ یا ۶۱،۶۲ یا ۶۴ عیسوی میں اور دوسری انجیل ۵۶ سے ۶۵ تک اور غالباً ۶۰ یا ۶۳ میں اور تیسری انجیل ۵۳ یا ۶۳ میں یا۶۴ میں اور چوتھی انجیل ۶۸ یا ۶۹ یا ۷۰ یا ۹۷ یا ۹۸ عیسوی میں تألیف ہوئیں اور نامۂ عبرانیہ اور نامۂ روم پطرس اور نامۂ دوم سوم یوحنا اور نامۂ یعقوب اور نامۂ یہودا اور مشاہداتِ یوحنا اور نامۂ اوّل یوحنا کے بعض ورس ( یعنی آیات)کا حال تو ایسا ابتر ہے کہ کہنے کے لائق نہیں ان کو تو محض زبردستی سے بِلاسند حواریوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بہت علماء فرقہ پروٹسٹنٹ نے اِن کتب کا انکار کیا تھا‘‘۔۷۳؎