دیباچہ تفسیر القرآن — Page 468
ہے تو وہ صرف یہودی دعوے کے تقابل کے لئے ہے حقیقت محض کے اظہارکے لئے نہیں۔ویدوں کو بھی میں نے دیکھا ہے ان میں بھی بہت کم صفات خدا تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں اور یہی حال ژند ا َوِستا کا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن کریم کامل کتاب ہے اور روحانیت کی تکمیل کے لئے آخری زینہ ہے اس لئے اس میں وہ صفات بھی آگئی ہیں جو پہلی کتابوں نے بیان کیں اور ان کے علاوہ کئی زائد صفات بھی اس میں بیان کی گئی ہیں۔بعض لوگوں کو ان صفات کے دیکھنے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض متضاد صفات بھی ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ رحم کرنے والا بھی ہے اور خدا تعالیٰ سزا دینے والا بھی ہے۔خدا تعالیٰ غنی بھی ہے اور پھر وہ پیدا بھی کرتا ہے اور بنی نوع انسان کی طرف ہدایت بھی بھیجتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اسے ان چیزوں کے وجود میں آنے کی خواہش ہے۔عام طور پر ایسے دماغو ں میں یہ سوالات پید اہوا کرتے ہیں جنہوں نے فلسفہ پر ادھورا غو رکیا ہوتا ہے وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ دنیا کا سارا حسن تو اس کے بظاہر نظر آنے والے اختلاف میں ہی پایا جاتا ہے یہ لوگ اس امر پر غور نہیں کرتے کہ مختلف چیزیں اپنا الگ الگ دائرہ رکھتی ہیں یا زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک کڑی کے ختم ہونے پر دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ سزا بھی دیتا ہے لیکن سزا دینے کے لئے اس نے کچھ قوانین مقرر کئے ہیں۔جب وہ قوانین چاہتے ہیں تو وہ سزا دیتا ہے اور جب عفو کے متعلق اُس کے مقرر کئے ہوئے قوانین کا تقاضا بڑھ جاتا ہے تو وہ عفو کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں کسی انسان کے لئے اس کی سزا کی صفت جاری ہو رہی ہوتی ہے اور کسی انسان کے لئے اس کی بخشش کی صفت ظہور میں آ رہی ہوتی ہے۔کسی انسان کے لئے اس کے پیدا کرنے کی صفت اور کسی انسان کے لئے اس کے مارنے کی صفت جاری ہو رہی ہوتی ہے۔میں ابھی چھوٹا تھا کہ آریہ سماج کے ایک لیڈر نے مجھ سے سوال کیا کہ خد اتعالیٰ کو قرآن کریم میں رَبُّ الْعٰلمین کہا گیا ہے پھر وہ مارتا کیوں ہے حالانکہ رَبُّ الْعٰلمین کے تو معنی ہیں پیدا کر کے تکمیل تک پہنچانا۔یہ اعتراض محض سطحی تھا رَبُّ الْعٰلمین کے یہ تو معنی نہیں کہ اس کو مارے نہیں۔قرآن کریم میں ربُ العالَم نہیں کہا گیا بلکہ ربُّ العٰلمین کہا گیا ہے اور جب ایک چیز ایک طرف سے دوسری طرف کو منتقل ہو جاتی ہے تو ربوبیت کی صفت بھی ایک دوسری شکل