دیباچہ تفسیر القرآن — Page 359
کر نہیں کھائی۔۴۰۵؎ ایک دفعہ آپ رستہ میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک بکری بھون کر لوگوں نے رکھی ہوئی ہے اور دعوت منارہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اُن لوگوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کر دیا ۴۰۶؎ اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ بھونا ہوا گوشت کھانا پسند نہیںکرتے تھے بلکہ آپ کو اِس قسم کا تکلف پسند نہیں تھا کہ پاس ہی غرباء تو بھوکے پھر رہے ہوں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے لوگ بکرے بھون بھون کر کھا رہے ہوں۔ورنہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپ بھونا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن متواتر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور یہی حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک رہی۔۴۰۷؎ کھانے کے متعلق آپ اِس بات کا خاص طورپر خیال رکھتے تھے کہ کوئی بغیر بُلائے کسی دعوت کے موقع پر دوسرے کے گھر کھانا کھانے کے لئے نہ چلا جائے۔ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کی دعوت کی اوریہ بھی درخواست کی کہ آپ چار آدمی اپنے ساتھ اَور بھی لیتے آئیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے گھر کے دروازہ پر پہنچے تو آپ کو معلوم ہوا کہ ایک پانچواں شخص بھی آپ کے ساتھ ہے۔جب گھر والا باہر نکلا تو آپ نے اُس سے کہا کہ آپ نے ہمیں پانچ آدمیوں کو دعوت کیلئے بلایا تھا آپ چاہیں توا ِس کو بھی اجازت دے دیں اور چاہیں تو اِس کو رخصت کر دیں۔گھر والے نے کہا نہیں میں اِن کی بھی دعوت کرتا ہوں یہ بھی اندر آجائیں۔۴۰۸؎ جب آپ کھاناکھاتے توہمیشہ بِسْمِ اللّٰہِ کہہ کر شروع کیا کرتے تھے اور جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے توا ن الفاظ میں خدا کی تعریف فرماتے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکاًفِیْہِ غَیْرَ مُکْفِیئٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنٍی عَنْہُ رَبَّنَا۔۴۰۹؎ یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہمیں کھانا عطا کیا۔بہت بہت تعریف ،ہر قسم کی ملونی سے خالی تعریف، بڑھتی رہنے والی تعریف۔ایسی تعریف نہیں جس کے بعد انسان سمجھے کہ بس میں تعریف کافی کر چکا بلکہ یہ سمجھے کہ میں نے تعریف کرنے کا حق ادا نہیں کیا اور کبھی تعریف بس نہ کرے۔اور کبھی