دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 353

کے بعد اُن کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔۳۸۶؎ یہ آپ کی آخری نصیحت تھی اپنی اُمت کیلئے کہ گو تم مجھے تمام نبیوں سے زیادہ شاندار دیکھو گے اور سب سے زیادہ کامیاب پاؤ گے مگر دیکھنا! میرے بندے ہونے کو کبھی نہ بھول جانا۔خدا کا مقام خدا ہی کیلئے سمجھتے رہنا اور میری قبر کو ایک قبر سے زیادہ کبھی کچھ نہ سمجھنا۔باقی اُمتیں اپنے نبیوں کی قبروں کو بیشک مسجدیں بنا لیں، وہاں بیٹھ کر چلّے کیا کریں اور اُن پر چڑھاوے چڑھائیں یا نذریں دیں مگر تمہارا یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔تم خدائے واحد کی پرستش کو قائم کرنے کیلئے کھڑے کئے گئے ہو۔یہ کہتے کہتے آپ کی آنکھیں چڑھ گئیں اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۳۸۷؎ میں عرش معلّٰی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔میں عرش معلّٰی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔یہ کہتے کہتے آپ کی روح اِس جسم سے جُدا ہوگئی۔آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کی حالت جب یہ خبر مسجد میں صحابہ کو ملی جن میں سے اکثر اپنے کام کاجچھوڑ کر مسجد میں آپ کی صحت کی خوشخبری سننے کے انتظار میں تھے تو اُن پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔حضرت ابوبکرؓ اُس وقت تھوڑی دیر کیلئے کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ مسجد میں تھے جب اُنہوں نے لوگوں کو یہ بات کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو اُنہوں نے نیام سے تلوار نکال لی اور کہا خدا کی قسم! جو شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں مَیں اُس کا سَر اُڑا دوں گا۔ابھی تک منافق دنیا میں باقی ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہو سکتے۔اگر اُن کی روح جسم سے جدا ہوگئی ہے تو وہ صرف موسٰی ؑ کی طرح خدا کی ملاقات کے لئے گئی ہے اور پھر واپس آئے گی اور دنیا سے منافقوں کا قلع قمع کرے گی۔۳۸۸؎ یہ کہا اور ننگی تلوار لے کر اس روح فرسا خبر کے صدمہ سے مجنونوں کی طرح اِدھر اُدھر ٹہلنے لگے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو میں اُسے قتل کر دوں گا۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت عمرؓ کو اس طرح ٹہلتے ہوئے دیکھا تو ہمارے دلوں کو بھی ڈھارس