دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 205

آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے اور مکہ سے تین چار میل پر ثور نامی پہاڑی کے سرے پر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔۲۳۱؎ جب مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے گئے ہیں تو اُنہوں نے ایک فوج جمع کی اورآپ کا تعاقب کیا۔ایک کھوجی اُنہوں نے اپنے ساتھ لیا جو آپ کا کھوج لگاتے ہوئے ثور پہاڑ پر پہنچا۔وہاں اُس نے اُس غار کے پاس پہنچ کر جہاں آپ ابوبکرؓ کے ساتھ چھپے ہوئے تھے یقین کے ساتھ کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اِس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے۔اُس کے اِس اعلان کو سن کر ابوبکرؓ کا دل بیٹھنے لگا اور اُنہوں نے آہستہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دشمن سر پر آپہنچا ہے اور اب کوئی دم میں غار میں داخل ہونے والا ہے۔آپ نے فرمایا۔لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَناَ۔۲۳۲؎ ابو بکر! ڈرو نہیں خدا ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ا بوبکرؓ نے جواب میں کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں اپنی جان کے لئے نہیں ڈرتا کیونکہ میں تو ایک معمولی انسان ہوں مارا گیا تو ایک آدمی ہی مارا جائے گا یَارَ سُوْلَ اللّٰہ! مجھے تو صرف یہ خوف تھا کہ اگر آپ کی جان کو کوئی گزند پہنچا تو دنیا میں سے روحانیت اور دین کا نام مٹ جائے گا۔آپ نے فرمایا کوئی پرواہ نہیں یہاں ہم دو ہی نہیں ہیں تیسرا خدا تعالیٰ بھی ہمارے پاس ہے۔چونکہ اب وقت آپہنچا تھا کہ خدا تعالیٰ اسلام کو بڑھائے اور ترقی دے اور مکہ والوں کے لئے مہلت کا وقت ختم ہو چکا تھا خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور اُ نہوں نے کھوجی سے استہزاء شروع کر دیا اور کہا کیا اُنہوں نے اِس کھلی جگہ پر پناہ لینی تھی؟ یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور پھر اِس جگہ کثرت سے سانپ بچھو رہتے ہیں یہاں کوئی عقلمند پناہ لے سکتا ہے اور بغیر اس کے کہ غار میں جھانک کر دیکھتے کھوجی سے ہنسی کرتے ہوئے وہ واپس لوٹ گئے۔دو دن اِسی غار میں انتظار کر نے کے بعد پہلے سے طے کی ہوئی تجویز کے مطابق رات کے وقت غار کے پاس سواریاں پہنچائی گئیں اور دو تیز رفتار اُونٹنیوں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی روانہ ہوئے۔ایک اونٹنی پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رستہ دکھانے والا آدمی سوار ہوا اور دوسری اُونٹنی پر حضرت ابوبکرؓ اور ان کا ملازم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے۔مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا۔اُس