دیباچہ تفسیر القرآن — Page 178
سے نیزہ مارا جو ران کو چیرتا ہوا اُن کے پیٹ میں گھس گیا اور تڑپتے ہوئے اُنہوں نے جان دے دی۔۱۹۹؎ زنبیرہؓ بھی ایک لونڈی تھیں اُن کو ابوجہل نے اتنا مارا کہ اُن کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔۲۰۰؎ ابو فکیہہؓ صفوان بن اُمیہ کے غلام تھے۔اُن کو اُن کا مالک اور اُس کا خاندان گرم تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گر م پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیتا یہاں تک کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی۔یہی حال باقی غلاموں کا بھی تھا۔۲۰۱؎ بیشک یہ ظلم انسانی طاقت سے بالا تھے، مگر جن لوگوں پر یہ ظلم کئے جار ہے تھے وہ ظاہر میں انسان تھے اور باطن میں فرشتے۔قرآن صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل اور کانوں پر نازل نہیں ہو رہا تھا خد ااُن لوگوں کے دلوں میں بھی بول رہا تھا اور کبھی کوئی مذہب قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ابتدائی ماننے والوں کے دلوں میں سے خد ا کی آواز بلند نہ ہو۔جب انسانوں نے اُن کو چھوڑ دیا، جب رشتہ داروں نے اُن سے منہ پھیر لیا تو خد اتعالیٰ اُن کے دلوں میں کہتا تھا میں تمہارے ساتھ ہوں، میں تمہارے ساتھ ہوں اور یہ سب ظلم اُن کے لئے راحت ہو جاتے تھے۔گالیاں دعائیں بن کر لگتی تھیں۔پتھر مرہم کے قائمقام ہو جاتے تھے مخالفتیں بڑھتی گئیں مگر ایمان بھی ساتھ ہی ترقی کر تا گیا۔ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ گیا مگر اخلاص بھی تمام گزشتہ حدبندیوں سے اُوپر نکل گیا۔آزاد مسلمانوں پر ظلم آزاد مسلمانوں پر بھی کچھ کم ظلم نہیں ہوتے تھے۔اُن کے بزرگ اور خاندانوں کے بڑے لوگ اُنہیں بھی قسم قسم کی تکلیفیں دیتے تھے۔حضرت عثمانؓ چالیس سال کی عمر کے قریب کے تھے اور مالدار آدمی تھے مگر باوجود اس کے جب قریش نے مسلمانوں پر ظلم کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے چچا حکم نے اُن کو رسیوں سے باندھ کر خوب پیٹا۔زبیرؓ بن العوام ایک بہت بڑے بہادر نوجوان تھے۔اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں وہ ایک زبردست جرنیل ثابت ہوئے۔ان کا چچا بھی اُن کو خوب تکلیفیں دیتا تھا۔چٹائی میں لپیٹ دیتا تھا اور نیچے سے دُھواں دیتا تھا تاکہ اُن کا سانس رُک جائے اورپھر کہتا تھا کہ کیا اب