دیباچہ تفسیر القرآن — Page 7
تَنَصَّرَفِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ کِتَابَ الْعِبْرَانِیِّ فَیَکْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ باِ لْعِبْرَانِیَّۃِ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَکْتُبَ ۲؎ یعنی ورقہ بن نوفل نے جاہلیت میں عیسائیت اختیار کرلی تھی اوروہ عبرانی سے عربی میں اناجیل کا ترجمہ کیا کرتے تھے۔عرب کے دوسرے کنارے پر ایرانی آ باد تھے اور وہ بھی ایک نبی اور ایک کتاب کے ماننے والے تھے۔زرتشت نبی کی کتاب ژند اَوِستاگوانسانی دستبرد کا شکار ہو چکی تھی لیکن تاہم لاکھوں انسانوں کا مرجع عقیدت بنی ہوئی تھی اور ایک زبردست حکومت اس کے قانون کی اتباع کی مدعی تھی۔ہندوستان میں ویدہزاروں سالوں سے لوگوں کی عقیدت کا مرجع بنے ہوئے تھے اور کرشن جی کی گیتا اور بدھ کی تعلیم مزید برآں تھیں۔چین میں کنفیوشس ازم کا زور تھا اور بدھ مذہب بھی اپنے پائوں پھیلا رہا تھا ان کتابوں اور ان تعلیموں کے ہوتے ہوئے کیا کسی نئی کتاب کی ضرورت تھی؟ یہ ایک سوال ہے جو قرآن کریم کے دیکھتے ہی ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہئے۔اس سوال کا جواب کئی رنگ سے دیا جا سکتا ہے۔اوّل: کیا یہ اختلافِ مذاہب خود اِس بات کی دلیل نہ تھا کہ ان سب مذاہب کو متحد کرنے کے لئے کوئی اور مذہب آنا چاہئے؟ دوم: کیا انسانی دماغ اسی طرح ارتقاء کی منزلوں کو طے کرتا ہوا نہیں جا رہا تھا جس طرح انسانی جسم نے کسی زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں۔پھر کیا جس طرح جسم کی ارتقائی منزلیں ایک مقام پر پہنچ کر ایک مستقل صورت اختیار کر گئیں اسی طرح کیا روح اور دماغ کے لئے بھی ضروری نہ تھا کہ وہ ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پر پہنچے جو انسانی پیدائش کا مقصود تھی؟ سوم: کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آگیا تھا جس کی وجہ سے دنیا کو شدید طور پر ایک نئی کتاب کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا؟ چہارم: کیا سابق مذاہب اپنی تعلیم کو حتمی اور آخری قرار دے رہے تھے یا وہ خود بھی ایک ارتقاء کے قائل تھے اور روحانیت کی ترقی کے لئے ایک ایسے نقطہ کی خبر دے رہے تھے جس پر جمع ہو کر بنی نوع انسان کو انسانی پیدائش کا مقصد حاصل کرنا تھا؟