دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 165

کے شہروں کے ہاتھ میں تھیں بقیہ عرب سوائے یمن اور بعض شمالی علاقوں کے بدوی زندگی بسر کرتے تھے۔نہ اُن کے کوئی شہر تھے نہ اُن کی کوئی بستیاں تھیں۔صرف قبائل نے ملک کے علاقے تقسیم کر لیے تھے۔اِن علاقوں میں وہ چکر کھاتے پھرتے تھے۔جہاں کا پانی ختم ہو جاتا تھا وہاں سے چل پڑتے تھے اور جہاں پانی مل جاتا تھا وہاں ڈیرے ڈال دیتے تھے۔بھیڑ، بکریاں، اُونٹ اُن کی پونجی ہوتے تھے اُن کی صوف اور اُون سے کپڑے بناتے۔اُن کی کھالوں سے خیمے تیار کرتے اور جو حصہ بچ جاتا اُسے منڈیوں میں لے جا کر بیچ ڈالتے۔عرب کے دیگر حالات و عادات و خصائل سونے چاندی سے وہ نا آشناتو تھے مگر سونا اور چاندی ان کے لئے ایک نہایت ہی کمیاب جنس تھی۔حتی کہ اُن کے عوام اور غرباء میں زیورات کوڑیوں اور خوشبودار مصالحوں سے بنائے جاتے تھے۔لونگوں اور خربوزوں اور ککڑیوں وغیرہ کے بیجوں اور اِسی قسم کی اَور چیزوں سے وہ ہار تیار کر تے اوراُن کی عورتیں یہ ہار پہن کر زیوروں سے مستغنی ہو جاتی تھیں۔فسق و فجور کثرت سے تھا۔چوری کم تھی مگر ڈاکہ بے انتہاء تھا۔ایک دوسرے کو لُوٹ لینا وہ ایک قومی حق سمجھتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی قول کی پاسداری جتنی عربوں میں ملتی ہے اتنی اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔اگر کوئی شخص کسی طاقتور آدمی یا قوم کے پاس آکر کہہ دیتا کہ میں تمہاری پناہ میں آگیا ہوں تو اُس شخص یا اُس قوم کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ اُس کو پناہ دے۔اگر وہ قوم اُسے پناہ نہ دے تو سارے عرب میں وہ ذلیل ہو جاتی تھی۔شاعروں کو بہت بڑا اقتدار حاصل تھا وہ گویا قومی لیڈر سمجھے جاتے تھے۔لیڈروں کے لئے زبان کی فصاحت اور اگر ہوسکے تو شاعر ہونا نہایت ضروری تھا۔مہمان نوازی انتہاء درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔جنگل میں بھولا بھٹکا مسافر اگر کسی قبیلہ میں پہنچ جاتا اور کہتاکہ میں تمہارا مہمان آیا ہوں تو وہ بے دریغ بکرے اور دنبے اور اُونٹ ذبح کر دیتے تھے۔اُن کے لئے مہمان کی شخصیت میں کوئی دلچسپی نہ تھی، مہمان کا آجانا ہی اُن کے نزدیک قوم کی عزت اور احترام کو بڑھانے والا تھا اور قوم پر فرض ہو جاتا تھا کہ اُس کی عزت کر کے اپنی عزت کو بڑھائے۔عورتوں کو کوئی حقوق اُس قوم میں حاصل نہیں تھے۔بعض قبائل میں یہ عزت کی بات سمجھی جاتی تھی کہ باپ اپنی لڑکی کو مار ڈالے۔مؤرخین یہ