دیباچہ تفسیر القرآن — Page 155
دے کر نیکی کا وجود ہی مشتبہ کر دیا ہے۔اورجو یہ کہا گیا تھا کہ وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی۔اِس کی تشریح میں استثناء باب۱۸ کی پیشگوئی کے ماتحت کر آیا ہوں۔آئندہ کی خبروں کے متعلق جو کہا گیاہے اِس کیلئے صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جتنی آئندہ کی خبریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہیں اور کسی نبی نے نہیںدیں۔اِس پر کچھ روشنی آگے چل کر ڈالی جائے گی یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اور یہ جو کہا گیا تھا کہ اُس کا کلام سارے کا سارا کلام اللہ ہو گا یہ بھی ایک ایسی پیشگوئی ہے جس کا اور کوئی مصداق نہیں ہو سکتا۔عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی کوئی بھی تو کتاب نہیں جو انسانی کلام سے خالی ہو، لیکن قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں شروع سے لے کر آخر تک وہی بیان کیا گیا ہے جو خد اتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اَور وں کا تو ذکر کیا خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بھی ایک لفظ اِس کتاب میں نہیں۔آخر میں یہ جو کہا گیا تھا کہ ’’ وہ میری بزرگی کر ے گی‘‘ سو یہ بزرگی کرنے والے نبی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔آپ ہی ہیں جنہوں نے مسیح کو اس الزام سے بچایا کہ وہ صلیبی موت سے مرکر نَعُوْذُ بِاللّٰہ لعنتی ہوا۔آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو اِس الزام سے بچایا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہ خدائی کا دعویٰ کر کے وہ خدا تعالیٰ سے بیوفائی اور غداری کرتے تھے۔آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیحؑ کو یہودیوں کے اعتراضات سے نجات دلائی۔پس اِس پیشگوئی کا مصداق آپؐ کے سوا کوئی نہیں۔(ز) کتاب اعمال میں لکھا ہے:۔’’ ضرور ہے کہ آسمان اُسے (یعنی مسیح کو) لئے رہے اُس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خد انے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آویں۔کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اُٹھاوے گا۔جو کچھ وہ تمہیں کہے اُس کی سب سنو اور ایسا ہی ہو گا کہ ہر نفس جو اُس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا اِن دنوں کی خبر دی‘‘۔۱۸۱؎