دیباچہ تفسیر القرآن — Page 115
ض جس نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں یہ ثابت ہے کہ قریش بنو اسمٰعیل تھے اور فاران بائبل کے مطابق وہی علاقہ ہے جس میں بنو اسمٰعیل رہے۔حبقوق نبی کی پیشگوئی پس فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ یقینا جلوۂ محمدی ہی تھا جس کی خبر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اور اس کی خبر حبقوق نبی نے مسیح سے ۶۲۶ برس پہلے دی اور کہا: ’’ خدا تیما سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا۔سلاہ۔اُس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی اور اُس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی۔اُس کے ہاتھ سے کرنیں نکلیں پر وہاں بھی اُس کی قدرت درپردہ تھی۔مری اُس کے آگے آگے چلی اور اُس کے قدموں پرآتشی وبا روانہ ہوئی۔وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔اُس نے نگاہ کی اورقوموں کو پراگندہ کر دیا اور قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے دھنس گئیں۔اُس کی قدیم راہیں یہی ہیں۔میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بپت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے‘‘۔۱۲۷؎ اِس پیشگوئی میں بھی تیما او ر کوہِ فاران سے ایک قدوس کے ظاہر ہونے کا ذکر آتا ہے۔پس موسیٰ کی پیشگوئی اور حبقوق کی پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ حضر ت مسیحؑ تک انسان اپنے ارتقاء کے آخری نقطہ کو پہنچنے والا نہ تھا بلکہ حضر ت مسیح کے بعد ایک اور جلوۂ الٰہی ظاہر ہونے والا تھا جس کو صرف جمالی جلوہ نہیں ہونا تھا بلکہ اُس کے ساتھ ایک آتشی شریعت کا ہونا بھی لازمی تھا اور جیساکہ ہم اُوپر ثابت کر چکے ہیں کہ تیما کی سرزمین اور کوہِ فاران سے ظاہر ہونے والے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اُن کی آتشی شریعت قرآن کریم تھی جس نے گناہوں او ر شیطانی کاروبار کو جلا کر رکھ دیا۔موسیٰ نے کہا جب وہ کوہِ فاران سے ظاہر ہو گا تو اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی آئیں گے۔وہ کون تھا جو کوہِ فاران سے ظاہر ہوا اور اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے؟ وہ صرف محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جو فاران کی پہاڑیوں پر سے ہوتے ہوئے جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے ساتھ دس ہزار آدمی تھا جس پر ساری تاریخیں متفق