دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 116

ہیں۔کیا مسیح پر یہ پیشگوئی چسپاں ہو سکتی ہے؟ کیا دائود پر یہ پیشگوئیاں چسپاں ہو سکتی ہیں؟ وہ کب فاران سے ظاہر ہوئے اور کب اُن کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے؟ مسیح کے ساتھ توکل ۱۲ حواری تھے جن میں سے ایک نے مسیح کو چند روپے لے کر بیچ دیا اور دوسرے نے اُس پر لعنت کی۔باقی رہ گئے دس۔سو بائبل کہتی ہے کہ وہ دس بھی بھاگ گئے اگر وہ قائم بھی رہتے اور نہ بھاگتے تب بھی دس اور دس ہزار میں بڑا بھاری فرق ہے اور تورات تو کہتی ہے کہ وہ اُس کے ساتھ ہوںگے اور مسیح کے دس آدمیوں کی نسبت انجیل کہتی ہے کہ وہ اُس کا ساتھ چھوڑ گئے۔اِسی طرح حبقوق میں لکھا ہے’’ زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی‘‘۔وہ کون ہے جس کا نام محمد تھا اور جس کے دشمن اُسے گالیاں دیتے تو اُس کا نام لے کر اُنہیں گالیاں دینے کی جرأت نہیں ہوتی تھی کیونکہ محمد یعنی تعریف والا کہہ کر وہ اُسے کیا گالی دے سکتے تھے اِس لئے وہ اس کو مذمم کہہ کر گالی دیتے تھے اور جب کبھی آپ کے صحابہ کو گالیاں سن کر جوش آتا تو آپ فرماتے تمہارے لئے جوش کی کوئی وجہ نہیں۔وہ مجھے تو گالیاں نہیں دیتے وہ تو کسی مذمم کو گالیاں دیتے ہیں۔پس وہ جس کے نام میں ہی حمد آتی ہے اور جس کی اُمت کی شاعری کا ایک جز و ہی نعت ِمحمد (یعنی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ) ہو گیا ہے کیا اُس کے سوا کوئی اور شخص بھی اس پیشگوئی کا مستحق ہو سکتا ہے؟ پھر لکھا ہے۔’’ مری اُس کے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی وباروانہ ہوئی‘‘۔یہ پیشگوئی بھی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے کیونکہ آپ کے ذریعہ خد اتعالیٰ نے آپ کے دشمن کو تباہ کیا۔گو اِس جگہ مری کے الفاظ ہیں جو بیماری پر دلالت کرتے ہیں مگر مراد تباہی اور ہلاکت ہی ہے کیونکہ جس ذریعہ سے بھی موت عام ہو جائے وہ مری اور وبا کہلائے گا۔پھر لکھا ہے۔’’ وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔اُس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا‘‘۔یہ پیشگوئی بھی نہ تو موسٰی ؑعلیہ السلام پر صادق آسکتی ہے نہ مسیح علیہ السلام پر۔موسیٰ علیہ السلام تو اپنے دشمن سے لڑتے ہوئے فوت ہو گئے اور مسیح علیہ السلام کو تو بقول عیسائیوں کے اُن کے دشمنوں نے پھانسی دے دیا۔جس نے ز مین کو لرزہ دیا اور جس کی نگاہ نے قوموں کو