دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 105

سچائی کی راہیں اُس کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوں گی‘‘۔لیکن مسیح خود کہتا ہے کہ وہ سچائیاں دنیا کو نہیں بتاتے۔وہ کہتے ہیں:۔’’ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے، لیکن جب وہ روحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی، لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی‘‘۔۱۱۰؎ اِن حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام پر یہ پیشگوئی تو پوری نہیں ہوئی اور جب حضرت مسیحؑ پر یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تھی تو اِس کے صاف معنی یہ ہیںکہ مسیح علیہ السلام کے بعد آنے والے ایک ایسے نبی کی پیشگوئی عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں موجود تھی جو ساری سچائیوں کو ظاہر کرے گا اور دنیا میں خد اتعالیٰ کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم کرے گا۔ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن کریم اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا ہے۔چنانچہ:۔(۱) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص تھے جو بنو اسمٰعیل میں پیدا ہوئے جو بنو اسحاق کے بھائی تھے۔(۲) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص تھے جنہوں نے موسیٰ کے مانند ہونے کا دعویٰ کیا چنانچہ قرآن میں آتا ہے۔ ۱۱۱؎ ہم نے تمہاری طرف تم میں سے ایک رسول بھیجا جس طرح فرعون کی طرف ہم نے رسول بھیجا تھا۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موسٰی ؑکی طرح نبی ہیں۔(۳) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا موعود نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا نہ کہ کوئی اور دعویٰ۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا مگر اس کے برخلاف کہا جاتا ہے کہ مسیح نے نبی ہونے کادعویٰ نہیں کیا۔چنانچہ انجیل مرقس میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ ’’ لوگ کیا کہتے ہیں کہ میں کون ہوں؟ اُنہوں نے کہا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا