دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 102

کنعان کی حکومت دی گئی اور بنو اسمٰعیل کواُن کے وعدہ کے مطابق عرب کی حکومت دی گئی۔آخر جب بنو اسحاق کی قیامت آگئی تو دائود کی پیشگوئی کے مطابق نسلی لحاظ سے نہیں بلکہ راستباز ہونے کے لحاظ سے کنعان پر غلبہ بنو اسمٰعیل کو دے دیا گیا۔گویا نسلی وعدہ ابراہیم کے مطابق مسلمانوں کو مکہ اور اس کے اِرد گرد کا علاقہ ملا۔جس کا دعویٰ قرآن کریم نے سورۃ بقرہ رکوع ۱۵/۱۵ میں کیا ہے اور راستباز ہونے کے لحاظ سے بنو اسحاق کی مذہبی تباہی کے بعد وہ کنعان کے بھی وارث قرار پائے۔دوسری پیشگوئی۔حضرت موسیٰ کے بعد ایک شرعی نبی کا ظہور حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خدا تعالیٰ کے حکم سے طور پر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ:۔’’خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا‘‘۔۱۰۵؎ پھر لکھا ہے۔’’ میں اُن کے لئے اُن کے بھائیوں میںسے تجھ سا ایک بنی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے فرمائوں گا وہ سب اُن سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کاحساب اُس سے لوںگا۔لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے‘‘۔۱۰۶؎ اِن آیتوں سے ظاہر ہے کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک نئے صاحبِ شریعت نبی کی پیشگوئی کی گئی تھی جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہو گا۔صاحبِ شریعت ہونے کی پیشگوئی اِن الفاظ سے نکلتی ہے کہ وہ موسیٰ کی مانند ہو گا اور موسیٰ صاحبِ شریعت نبی تھے۔دوسری خبر اِس پیشگوئی میںیہ دی گئی ہے کہ سب باتیں جو اُسے کہی جائیں گی وہ لوگوں سے بیان کر دے گا۔یہ علامت بھی بتاتی ہے وہ صاحبِ شریعت ہو گا کیونکہ صاحبِ شریعت نبی قوم کی بنیاد