صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 28 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 28

29 منظوم کلام ہیں۔ان کا مطالعہ کرنے سے انسان محسوس کرتا ہے کہ ایک اولوالعزم نبی کے خطابات ہیں۔یہ عارفانہ کلام انسان کے دل کو معرفت اور یقین کے نور سے روشن کرتا ہے۔فرستاده خدا بار بار خدائی نعماء کا ذکر کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے۔وہ اپنے مخالفین کی ایذارسانی کا درد انگیز الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ وہ اس کو اسفل السافلین میں گرانا چاہتے ہیں۔لیکن وہ اس یقین سے معمور ہے کہ خدا تعالیٰ اس کو ان کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھے گا۔اور ان کو ہلاک کر کے چھوڑے گا۔ان زبوروں میں یہ مامور من اللہ دشمنوں کے ایک ایسے حملے کا ذکر بھی کرتا ہے جس میں اس کی زندگی بالکل ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی۔لیکن اللہ تعالی نے اپنی خاص تائید سے اس کی جان بچائی اور اس کی صحت کو نئے سرے سے بحال فرمایا اور اس واقعہ کے بعد مامورِ خدا دور دراز علاقے میں اپنی ہجرت کا ذکر کرتا ہے۔جہاں بلند و بالا درخت اور پانی کے چشمے ہیں۔ان حالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان زبوروں میں حضرت مسیح علیہ السلام بول رہے ہیں۔نمونہ کے لئے دوحوالے درج ذیل ہیں۔زبور نمبر 4 میں لکھا ہے:۔تو نے اس غریب کی جان بچائی ہے جس کا خون وہ اس غرور کی تشہیر کے لئے کہ وہ تیری عبادت گاہ ہے بہانا چاہتے تھے۔انہوں نے مجھے لعنت ملامت کے لئے چنا۔لیکن اے خدا تو غریب اور بے آسرا کی مدد کو پہنچا۔زور آور کے ہاتھ سے بچانے کے لئے تو نے میری جان کو طاقتور کے پنجہ سے چھڑایا۔تو نے مجھے ہمت عطا کی کہ میں ان کے شیطانی مکاید اور رومنوں کے پاس مخبری کے خوف سے تیری عبادت کو ترک کرنے کے گناہ سے بچا رہوں۔" مجھے میرے وطن سے اس طرح نکال دیا گیا جیسے پرندے کو گھونسلے سے۔میرے عزیز واقارب مجھے چھوڑ گئے وہ مجھے ایک ٹوٹا ہوا برتن سمجھتے ہیں۔لیکن تو اے خدا شیطان کے صحائف قمران مصنف مکرم شیخ عبدالقادر صاحب صفحہ 109-108