صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 24 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 24

25 نے غار نمبر 1 سے حاصل کیا۔یسعیاہ الف اور دوسرے صحیفے جو بقدرے چھوٹا ہے۔یسعیاہ ب کا نام دیا گیا۔دونوں صحائف عبرانی زبان میں ہیں۔یسعیاہ الف سیدھا لپیٹا ہوا ملا ہے۔یہ کئی جگہ سے کٹا پھٹا ہے۔مختلف جگہ اس کی مرمت کی گئی ہے۔غار میں رکھنے کے بعد اس کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا بلکہ پہلے ہی کثرت پہلے استعمال کیوجہ سے یہ کافی خراب حالت میں تھا۔صحائف کی دریافت کے بعد سب سے یہی صحیفہ شناخت کیا گیا اور اسکو سب سے اہم خیال کیا جانے لگا۔یہ صحیفہ چمڑے کی سترو(۱۷) مختلف تختیوں کو سی کر بنایا گیا ہے۔جنکی لمبائی 7۔34 میٹر یعنی آٹھ (۸) گز سے قدرے زیادہ ہے۔صحیفے کے باہر ایک سختی بطور غلاف لگائی گئی تھی۔جو غار میں رکھنے سے پہلے ہی کاٹ لی گئی۔صحیفے کے کل 54 کالم ہیں اس میں کئی جگہ اصلاح کی گئی ہے۔آکسفورڈ یو نیورسٹی کے پروفیسر کابل کا خیال ہے کہ یہ اصلاح عہد عتیق کا متن متعین ہو جانے کے بعد کی گئی۔اصلاح کیلئے بعض حروف کو مٹایا ہوا ہے۔بعض جگہ اضافے ہیں اور کئی الفاظ کو درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حاشیے میں مختلف جگہ 18 ربیوں کے دستخط ہیں۔مگر یہ پڑھے نہیں جاسکے۔اسکے علاوہ حاشیے میں 11 مقامات پر حروف (X) لکھا ہوا ہے۔اسے 1950ء میں ملر بروز نے شائع کیا۔محققین کا خیال ہے کہ یہ غار میں رکھنے سے قبل تقریباً ڈیڑھ صدی استعمال میں آچکا تھا لہذا یہ نسخہ لازماً عیسائیت سے پہلے کی تحریر نہیں ہے۔اس میں یسعیاہ کی مکمل کتاب موجود ہے۔اس کا متن مروجہ عبرانی مسورائی متن کے برعکس یونانی سبعینہ کی تائید کرتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوگا جب بعد کی کٹائی اور اضافے حذف کر کے اصل عبارت سامنے آئے گی۔صحائف کی دریافت سے پہلے یہ بحث چلی آرہی تھی کہ یسعیاہ نام کے دو نبی گزرے ہیں ایک طبقے کا خیال تھا کہ کتاب کے باب 40 سے لیکر جہاں سے پیشنگوئی شروع ہوتی ہے۔دوسرے یسعیاہ کی تصنیف ہے۔چنانچہ اس صحیفے کی اشاعت پر محققین کو شوق پیدا ہوا کہ