صحائف وادئ قمران — Page 23
24 کا ذکر کرتے ہیں۔ان سطور کا ترجمہ بطور نمونہ درج ذیل ہے۔وو وہ رات میں نے دعا میں گزاری۔خداوند سے منت کی اور عاجزانہ دعا کی میں نے غم زدہ ہو کر بہتے آنسوؤں کے ساتھ عرض کی مبارک ہے تو جوسب سے اعلیٰ خدا ہے۔اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔کیونکہ تو سب کا آقا اور حاکم ہے۔تو زمین کے تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔تو اپنا فیصلہ سب پر نافذ کرتا ہے۔میں تیرے حضور شاہ مصر فرعون ” ذوان“ کے بارے میں دعا کرتا ہوں کیونکہ میری بیوی زبر دستی مجھ سے چھین لی گئی ہے۔میری خاطر اپنا عذاب اس پر نازل فرما۔تا میں تیرا دایاں ہاتھ اس پر اور اس کے گھرانے پر پڑتا دیکھوں۔آج رات اس سے تمام طاقت چھین لے کہ وہ میری بیوی کو ناپاک نہ کر سکے۔اے آقا! تا وہ تجھے جائیں کہ تو زمین کے سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔میں اتنا رویا کہ بول نہ سکتا تھا تب اس رات خدا نے طاعونی آندھی چلائی اور فرعون کے علاوہ اسکے گھر کا ہر فرد اس کا شکار ہوا۔اور وہ اس کے (سارہ کے ) پاس نہ جاسکا۔دو سال وہ اس کے ہاں رہی۔پھر طاعون اور بیماری اور بھی زیادہ ہوگئی۔اس نے مصر کے تمام اطباء و حکماء کو بلایا۔تا اس کا علاج کریں۔مگر وہ سب ملکر بھی اسکا علاج نہ کر سکے کہ وہ کھڑا ہو سکے۔بیماری کی ہوا انہیں بھی لگتی تھی اور وہ طاعون کا شکار ہوکر بھاگ جاتے تھے۔کالم 21 میں حضرت ابراہم علیہ السلام اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام سے علیحدہ ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔اور پھر اپنا موجودہ سر زمین کا دورہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔یہاں بہت سے تاریخی نام بائیل کے بیان سے مختلف ہیں۔جنرل یا دین اور ابن ابو پگڈ کا خیال ہے کہ صحیفہ پہلی صدی قبل مسیح کے آخر میں لکھا گیا۔مگر ڈیل میڈیکو اسکی تاریخ تحریر دوسری عیسوی کا نصف بتاتے ہیں۔یسعیاہ:۔اس کتاب کے دو صحائف ملے ہیں۔بڑے صحیفے کو جو 1947 ء میں محمد الذئب