صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 22 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 22

23 بھی ملے ہیں۔ان کو پھٹی ہوئی جگہوں میں رکھنے سے صحیفے کی اشاعت میں مدد ملنے کا امکان ہے۔تاحال اس کی مکمل اشاعت نہیں ہوسکتی۔جب میٹرو پولیٹین اپنے صحائف کو امریکہ لے گیا تو وہاں ان کو کھولا گیا۔باقی صحائف کو کھولنے میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی مگر یہ صحیفہ بالکل ٹھوس شکل اختیار کر چکا تھا۔جب اس کو کھولنے کی تمام تر سعی اکارت گئی تو اس کو کاٹنے کی تجویز کی گئی۔میٹرو پولیٹن نے جب دیکھا کہ اس کو کھولنے کی کوشش میں صحیفے کو نقصان کا احتمال ہے۔جو اس کی قیمت پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔تو اس نے اس کو کھولنے سے ماہرین کو منع کر دیا۔چنانچہ جنرل یاوین نے اس مجموعے کے ہمراہ یہ گمنام صحیفہ بھی خریدا۔عبرانی یونیورسٹی میں پروفیسر بیر کراٹ نے اس کو کاٹ کر الگ الگ تختیاں حاصل کر لیں۔انہوں نے اس کا کالم 2 اور کالم 19 تا 22 کے فوٹو لئے۔انکا عبرانی اور انگریزی ترجمہ شائع کیا اس اشاعت میں باقی کالموں کے مضامین کا خلاصہ بھی شامل تھا۔اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیفہ کافی دلچسپ ہے۔1948ء میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ لمک کی کتاب کا آرامی نسخہ ہے۔مگر اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پیدائش کی کتاب کے بعض حصوں کا خلاصہ ہے۔ہر حصے میں ایک بزرگ اپنے حالات کہانی کے رنگ میں بیان کرتا ہے۔اس کا طرز بیان جو بلی اور حنوک کی کتب سے ملتا ہے۔اس کے دوسرے کالم میں نمک بیان کرتا ہے کہ کس طرح اسے اپنی بیوی پر شبہ ہوا اور کس طرح اس کی بیوی نے اپنی وفاداری کے ثبوت میں قسم کھائی۔کالم 19 میں حضرت ابراہم علیہ السلام اپنی وہ خواب بیان کرتے ہیں جو انہوں نے مصر پہنچ کر دیکھی تھی۔پھر وہ اس کی تعبیر اپنی بیوی سارہ کو بتاتے ہیں کہ فرعون اس کو چھین لے گا۔لیکن وہ آپ کی جان بچانے کا ذریعہ بنے گی۔اس کے بعد وہ بتاتی ہیں کہ پانچ سال آپ کے مصر میں رہنے کے بعد وہاں کے شہزادے آپ کے پاس آئے۔اور ایک شہزادہ سارہ کی خوبصورتی پر فریفتہ ہو گیا۔یہاں سارہ کی خوبصورتی کا عجیب و غریب الفاظ میں بیان ہے۔اس کے بعد کالم 20 کی سطور 12 تا 21 میں حضرت ابراہم علیہ السلام فرعون مصر کے خلاف اپنی دعا اور اس کی قبولیت