صحائف وادئ قمران — Page 182
187 "In light of this test I think we must say that while the wicked priest attempted to take his rival's life, the Righteous Teacher was spared, perhaps to be killed later by another adversary, perhaps to die of old age۔' ترجمہ: اس تحریر کی روشنی میں ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر چہ بدکار کا ہن نے اپنے رقیب کی جان لینے کی پوری کوشش کی۔تاہم استاد صادق کی جان بچائی گئی۔ہوسکتا ہے کہ بعد میں کسی اور مخالف نے آپ کو قتل کیا ہولیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ طبعی عمر پا کر فوت ہوئے۔“ واقعہ صلیب میں مسیح اور صادق میں حیران کن مشابہت پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی بعثت ثانیہ کی پیشگوئی کی اور کہا کہ ” میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ تم سارے شہروں میں نہ پھر چکو گے کہ ابن آدم آجائے گا، نیز کہا کہ ” جب ابن آدم اپنے جلال میں آئے گا اور سب فرشتے اس کے ساتھ آئیں گے تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا اور سب قومیں اس کے سامنے جمع کی جائیں گی اسی طرح استاد وو صادق نے بھی دوبارہ مبعوث ہونے کی پیشگوئی کی۔گاسٹر لکھتے ہیں : "It was held a new prophet and a new teacher (perhaps, indeed, one and the same person) would arise at the end of the present era to usher in the Golden Age, when the scattered hots of Israel would be gathered in, a duly ansinted high priest and a duly ansinted king (The Messiahs [ansinted] of Aaron and Israel) installed, and 'the earth filled with the knowledge of the lord like the waters which cover the sea'۔" ترجمہ: ”اسے ایک نیا نبی ایک نیا استاد تصور کیا جاتا تھا (شاید اپنے اسی جسم کے ساتھ ) 118-The Ancient Library of Qumran۔P متی 10/23 متى 25/31 Scriptures of the Dead sea sect۔P-15 ✗