صحائف وادئ قمران — Page 181
186 دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔صحیفہ دمشق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ نے دمشق کی طرف ہجرت کی اور وہاں جماعت قائم کرنے کے بعد آپ کشمیر کی طرف روانہ ہوئے آپ کی اس ہجرت کا ذکر زبوروں میں بڑی وضاحت سے ملتا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔"Though thou show thy power through me, they regard me not, but thrust me forth from my land like a sparrow from its nest; all my friends and familiars are thrust away from me, and deem me a broken pot۔"✓ ترجمہ: ”اے خدا! اگر چہ تو میرے ذریعہ اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے پھر بھی وہ میرا احترام نہیں کرتے بلکہ انہوں نے مجھے میرے وطن سے دور پھینک دیا ہے جس طرح چڑیا کو اس کے گھونسلے سے اڑا دیا جاتا ہے۔اور مجھے میرے سب رشتہ داروں اور دوستوں سے دور پھینک دیا گیا اور وہ مجھے ٹوٹا ہوا برتن قرار دیتے ہیں۔ایک اور زبور میں لکھتے ہیں۔"I give thanks unto thee, O Lord, for thou hast placed me where sells burst forth in dry land, where waters gush in thirsty soil, where an oasis blooms in the desert, like a fir or a pinc or a cypress, trees that never die۔۔۔ترجمہ: ”اے خدا وند میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کیونکہ تو نے مجھے ایسی جگہ پر رکھا ہے جہاں خشک زمین میں چشموں سے ندیاں پھوٹتی ہیں۔جہاں پیاسی زمین میں چشموں کا پانی زور سے نکلتا ہے۔جہاں ویرانے نخلستان بہار دیتا ہے۔جو سر ووصنوبر کی طرح خوبصورت ہے۔جہاں ایسے درخت ہیں جو سدا بہار ہیں۔66 چشموں اور سدا بہار درختوں کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ استاد صادق نے کشمیر کی طرف ہجرت کی تفسیر کے ایک حوالے پر تبصرہ کرتے ہوئے F۔Moore لکھتے ہیں: Scriptures of the Dead sea sect۔P-145 1 Scriptures of the Dead sea sect۔P-164 ✓