صحائف وادئ قمران — Page 168
173 کے دوسرے لٹریچر میں بیان ہیں۔لیکن مشکل یہ ہے۔کسی زمانے کی تاریخ میں بھی وہ تمام واقعات وشخصیات موجود نہیں۔محققین نے اس مشکل کو حل کرنے کے لئے بہت مغز زنی کی ہے۔اور تیسری صدی قبل مسیح سے لیکر آٹھویں صدی عیسوی تک کی تاریخ کا ہر ورق ان واقعات و شخصیات کی تلاش میں چھان مارا ہے۔لیکن بے سود یہ تفاصیل نہ ملنی تھی نہ ملیں۔اس راہ میں دیگر بہت سی مشکلات کے علاوہ اصل مشکل یہ ہے کہ سب نام تاریخی ہونے کی بجائے محض صفاتی اور مجازی ہیں۔لہذا یہاں صفات کے مالک کسی بھی فرد پر چسپاں ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے یہ معاملہ محققین میں بہت متنازعہ فیہ ہے۔استاد صادق کی شخصیت پر سب سے زیادہ گرم بحث پائی جاتی ہے۔دوسری صدی قبل مسیح سے لیکر دوسری صدی عیسوی تک کی تمام شخصیات خاص طور پر زیر بحث لائی گئی ہیں۔ایک محقق کسی شخصیت کے سر پر استاد صادق کا عظیم الشان تاج رکھتا ہے تو دوسرا اس کے ماتھے پر جلی حروف میں بدکار کا ہن کی ذلت آمیز مہر لگاتا ہے۔کیتم کو اکثر محققین نے رومی حاکم طبقہ قرار دیا ہے۔ان کی ظالم حکومت کے خلاف اس زمانے میں تمام یہودی فرقے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔بعض محققین نے ہر کناؤس دوم کو بد کار کا ہن قرار دیا ہے۔اس صورت میں ابوشالوم سے ارسطو بولوس کا ماموں مراد لیا جائے گا۔اور ہر کناؤس اول کا لڑکا بھی ابوشالوم تھا۔وہ بھی یہاں چسپاں ہوسکتا ہے۔بعض نے الیگزینڈ جناؤس کو بدکار کا جن قرار دیا ہے۔اس طرح بعض نے کا ہن اعظم متیلا ؤس کو بھی یہ نام دیا ہے۔لیکن اس صورت میں کیتم رومیوں کی بجائے سیلیو کی ہو نگے۔بعض محققین نے انبانباس کو بد کار کا ہن قرار دیا ہے۔اس بیان کے مطابق مناھیم استاد صادق ہے۔اور اس کا وزیر ابوشالوم تھا۔اور مکار انسان اگر یا دوم یہ بھی قابل ذکر ہے۔کہ مناھیم کو نبی کا ذب بھی قرار دیا گیا ہے۔اور یوجنا بپتسمہ دینے والے کو استاد صادق۔جیسا کہ شروع میں بیان کیا جا چکا ہے۔عیسائی محققین میں صحائف کے خلاف بہت زیادہ مذہبی تعصب پایا جاتا ہے۔لیکن استاد صادق کے بارے میں تعصب کو انتہا تک پہنچا دیا