صحائف وادئ قمران — Page 167
172 میں ملتا ہے۔66 ان مشکلات کے باوجود استاد صادق کی تعین کرنے کی بہت کوشش کی گئی ہے۔لیکن محققین میں شدید اختلافات ہیں۔اکثر نے ٹھوکریں کھائیں۔اور بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔ان سب کوششوں کا مقصد حقیقت پر پردا ڈالنا ہے۔لیکن جس چیز کا اظہار اللہ تعالی کے حضور مقدر ہو چکا ہو اس کو انسانی کوششوں سے مخفی نہیں رکھا جا سکتا۔صحائف کا مطالعہ کرنے سے ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ان میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات کا ذکر ہے۔وادی قمران کی غاروں سے حاصل ہونے والی تفاسیر میں مفسرین اپنے زمانے کو بائیبل کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا زمانہ خیال کرتے ہیں۔اور ان پیش گوئیوں میں بیان کردہ حالات اپنے ساتھ پیش آنے والے روز مرہ کے واقعات پر چسپاں کرتے ہیں۔ایسے لگتا ہے جیسے وہ اپنے آپ کو کوئی خاص جماعت سمجھتے تھے۔جو انبیاء کے سابقہ میں اکثر کی پیشگوئیوں کا موضوع تھے ہر نبی نے ان کے لئے پیش سوئی کی تھی اور اس میں بیان کردہ واقعات ان کے وقت میں رونما ہور ہے تھے۔ان تفاسیر میں تفسیر حقوق خاص طور پر قابل ذکر ہے۔اس تفسیر میں بعض شخصیات کا بار بار ذکر آتا ہے۔جو جماعت قمران کی زندگی پر گہرے اثرات کی حامل ہیں۔ان میں سے "کیتم " (Kittim) مکار انسان ”Man of Lies‘ بدکار کا ہن ”Wicked priest‘ ابوشالیم کا گھرانہ وو وو House of Ab salem “ اور استاد صادق " The teacher of Righteousness‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔تفاسیر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت قمران کی زندگی ہر وقت استاد صادق کے گرد چکر لگاتی ہے۔وہ ان کا آتا ہے۔اور اس پر ایمان ان کے لئے باعث نجات ہے۔اس کی مخالفت اور نافرمانی ابدی جہنم کا موجب ہے۔ان ناموں سے کیا مراد ہے؟ اور ان کے پیچھے کون کونسی شخصیات پوشیدہ ہیں؟ محققین میں اس امر میں شدید اختلافات ہیں۔ان شخصیات کا باہمی تعلق اور ان سے متعلقہ تاریخی واقعات بڑی وضاحت سے تفاسیر اور جماعت