صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 129 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 129

133 4- جماعت قمران صحائف کی دریافت کے بعد سب سے پہلی چیز جو ان کی اہمیت کے لئے فیصلہ کن تھی ان کے زمانہ تحریر کی تعین تھی۔چنانچہ سب سے پہلے یہی کام کیا گیا اور مختلف ماہرین لسانیات و آثار قدیمہ کی خدمات اس کام کے لئے حاصل کی گئیں۔چنانچہ شروع شروع میں ہی محققین نے یہ معلوم کر لیا کہ ان صحائف کا زمانہ پہلی صدی قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک ہے۔اس کے بعد اس کی تصدیق کیمیاوی طریقوں سے ہوگئی۔زمانہ کے تعین کے بعد دوسری چیز جو صحائف کی اہمیت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو سکتی تھی وہ ان کے لکھنے والی جماعت تھی۔اس مقصد کے لئے صحائف کو کھولا گیا۔لیکن صحائف پر ان کے کا تہوں کے نام کسی جگہ بھی نہ پائے گئے۔چنانچہ ان کے مضامین کا گہرا مطالعہ کیا گیا۔اتفاق سے پہلی غار سے حاصل ہونے والے صحائف میں دستور العمل کا صحیفہ بھی شامل تھا۔جس میں جماعت کے لئے قوانین وضع کئے گئے تھے۔جب اس کو پڑھا گیا تو ان پر پورا اترنے والی سب سے پہلی جماعت جو محققین کے ذہن میں آئی وہ ایسینی یہودی تھے۔جو ان غاروں کے قرب وجوار میں رہا کرتے تھے جن سے صحائف ملے ہیں۔مزید تحقیق کے لئے اس زمانے کے مؤرخین کی تحریرات کا گہرا مطالعہ کیا گیا تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ ان صحائف کو لکھنے والے فی الحقیقت ایسینی تھے۔جو بعد میں عیسائیت میں جذب ہو گئے۔اگر چہ شروع شروع میں علماء میں اس بارے میں معمولی اختلاف بھی رہا مگر آج کل تمام محققین بالاتفاق یہی رائے رکھتے ہیں کہ صحائف قمران ایسینیوں کی تصانیف ہیں۔جو یہودیوں کے باقی فرقوں سے الگ ہوکر بھیرہ