صحائف وادئ قمران — Page 115
118 disturb the faith of a Unitarin, for instance, who does not believe in the deity of Jesus nor in special miraculous resulations virgin birth, bodily resurrection salvation atonement and simila orthodox dogmas۔" ترجمہ نہ ہی مثلاً کسی یونیٹرین (موحد عیسائی) کے ایمان کو ٹھیس پہنچانے والی کوئی چیز غاروں سے ملنے والی سینکڑوں دستاویزات حنوک اور دیگر تمام دستاویزات میں ملی ہے۔کیونکہ وہ الوہیت مسیح، مخصوص معجزانہ وحی کنواری کے ہاں پیدائش، حشر احباد، نجات، کفارے اور اسی قسم کے کٹر اصولوں پر یقین نہیں رکھتا۔روح القدس ایسینی نے ممبروں کو پانی سے پتسمہ دیتے تھے لیکن ان کا عقیدہ تھا کہ باطنی صفائی جو پیسے کا اصل مقصد ہے۔پانی سے حاصل نہیں ہوتی۔محققین کا خیال ہے کہ مسیح علیہ السلام نے جس روح القدس کا ذکر کیا ہے اس سے آپ کی مراد اس قسم کی روح تھی۔جو ایسینیوں کے ہاں مراد لی جاتی تھی۔چنانچہ فرانس پاٹر لکھتے ہیں: "Jesus was apparently echoing and clarifying۔this essence teaching at the time he told his disciples they would receive the Holy spirit and promised when he thus spirit of truth is come the guide in all the truth۔" ترجمه در اصل مسیح اس وقت وہی گونج سنا رہے تھے اور اسی ایسینی تعلیم کو واضح کر رہے تھے۔اب آپ نے اپنے حواریوں کو بتایا کہ ان پر روح القدس نازل ہوگی اور ان سے یہ وعدہ کیا۔جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تمہاری راہنمائی کامل سچائی کے ساتھ کرے گا۔لیکن بعد میں مسیحیوں نے روح القدس کو اقوم ثالث قرار دے کر تثلیث کا ڈھونگ رچایا۔حالانکہ مسیح علیہ السلام نے توحید کی تعلیم دی تھی۔محققین کا خیال ہے کہ جب مزید صحائف کے تراجم شائع ہونگے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مسیح علیہ السلام روح القدس سے کیا مراد لیتے The last years of Jesus Revealed۔P-52 ↓