صحائف وادئ قمران — Page 94
97 زرتشتی اثر کے نیچے یہودیوں میں آیا۔صحائف قمران کے تراجم کی اشاعت سے یہ بات ہر روز زیادہ واضح ہوتی جارہی ہے کہ وہ ایسینی تعلیمات سے بھی متاثر تھا۔“ بعض محققین حقیقت کے اس قدر قریب چلے گئے ہیں کہ انہوں نے استاد صادق کو مسیح کہنا تسلیم کر لیا ہے چنانچہ اسے مسیح اول قرار دے کر یسوع کو مسیح ثانی کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیح ثانی نے مسیح اول سے زیادہ کوئی نیا پیغام دنیا کو نہ دیا۔چنانچہ ایچ۔ایچ۔رولے اپنی کتاب میں ایک صحافی کی رائے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔"Henceforth۔۔۔۔۔we know that the Messiah of galilee has contributed nothing, absolutely nothing, which was not long familiar to those who believed in the new covenant (i۔e۔the Qumran Sectaries) the first Christ, who perished under Aristobulus II could only be copied by the second Christ۔" ترجمہ: ”اب سے۔۔۔۔ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گلیل کے مسیح نے ان تعلیمات میں جن سے اس سے کچھ عرصہ قبل عہد جدید پر یقین رکھنے والے یعنی قمران فرقہ پرست بخوبی واقف تھے قطعاً کوئی اضافہ نہ کیا۔مسیح ثانی سے سوائے اس کے کچھ نہ ہوسکا کہ مسیح اول کی جو ارسطو بولوس دوم کے عہد میں فوت ہوا نقل کرے۔" حقیقت یہ ہے کہ محققین کی اکثریت اسبات پر یقین رکھتی ہے حضرت مسیح ایسینی فرقہ میں مبعوث ہوئے تھے چنانچہ رابرٹ ایم گرانٹ اور ڈیوڈ ٹول فریڈ مین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔"Indeed there were those who argued that both John the Baptist and Jesus had been essenes, and a few held that the Christian interpretation of Jesus crucifixion was based on Etiemble mels mps N۔W۔Derves vi, No۔63 1 بحوالہ (11-The dead sea scrolls and the New testament۔P)