صحائف وادئ قمران — Page 83
85 Analysis of the literary types, the prosody, and the language and theological motifs of these documents will greatly expand our knowledge of the development of late old testament psalmody on the one hand, and will illuminate on the other hand difficult problems in the study of the literary and prosodic canons of new testament psalms (especially in the prologue of Luke and poetry۔"_ ترجمه ادبی اقسام کے تجزیے یعنی ان تحریرات کے عروض، زبان اور دینی اغراض کے علم سے ایک طرف عہد عتیق کے مناجات کو گانے کے فن میں بعد کی ترقی سے متعلق ہماری معلومات بہت وسیع ہو جائیں گی۔اور دوسری طرف نئے عہد نامے کے زبوروں (خصوصاً لوقا کے مقدمے) میں ادبی اور عرضی معیاروں کے مطالعے سے متعلق مشکل مسائل 66 پر روشنی پڑے گی۔1- عهد عتیق میں کل 150 زبور شامل ہیں اگر چہ ان کی ترتیب میں اختلاف موجود رہا ہے۔لیکن ان کی تعداد کے متعلق مکمل اتفاق ہے۔اب صحائف قمران کی دریافت سے زبور نمبر 151 کا پتہ چلا ہے۔اس زبور میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے نغمات سرمدی کے باعث طیور اور جانور وجد میں آجاتے تھے۔گویا اس آسمانی موسیقار کی مناجات سے انسان اور حیوانات برابر متاثر ہوتے تھے۔اس سے قرآنی بیان کی صداقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔فرمایا: ” وسخر نامع داؤد الجبال يسبحن والطير“ (انبياء۔۸۰) ترجمہ: ”اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو بھی اور پرندوں کو بھی کام پر The Ancient Library of Qumran۔P-122 1 Dead sea scrolls (1947-69)۔P-147