صحائف وادئ قمران — Page 65
67 متن سے ملتا جلتا کوئی عبرانی نسخہ تھا۔دوسری صدی کے اختتام پر ("Theodotion") نے ترجمہ کیا۔اس کا اصل عبرانی نسخہ بھی Aguila سے ملتا تھا۔کچھ عرصہ بعد "Symmachus" کا ترجمہ سامنے آیا۔یہ ترجمہ آزادانہ ہونے کی وجہ سے عمدہ یونانی زبان پیش کرتا ہے۔تیسری صدی کے پہلے نصف میں سکندریہ کے ایک باشندے Origin نے گذشتہ تمام تراجم سے بہتر ترجمہ پیش کرنے کی غرض سے معروف مسدس ترجمہ پیش کیا۔اس کے پہلے کالم میں عبرانی متن، دوسرے میں یونانی حروف میں عبرانی متن، تیسرے میں Aguila کا یونانی ترجمہ، چوتھے میں Symmachus کا اور پانچویں میں سوعودیہ مگر اس کی نظر ثانی Origin نے کی تھی۔اور جھٹے کالم میں Theodotion کا یونانی ترجمہ شامل تھا۔عبرانی مسورائی متن اور یونانی سبعیہ میں موافقت پیدا کرنے کے لئے یہ بہت بڑی کوشش تھی۔مگر اس کے باوجود ان دونوں میں کئی اختلافات موجود ہیں۔محققین نے بہت کوشش کی کہ کوئی ایسا عبرانی نسخہ مل جائے۔جس سے ترجمہ کر کے سبعینہ تیار کی گئی تھی۔لیکن ایسا نہ ہوسکا کیونکہ جتنے بھی نسخے اس سے پہلے موجود تھے ان میں سے کوئی بھی چوتھی پانچویں صدی سے پہلے کا نہ تھا یعنی سب کے سب جامنیہ کی مجلس کے بعد کے تھے۔اور ان میں ایسے نسخے کا ملنا ممکن ہی نہ تھا۔کیونکہ اس موقعہ پر مسورائی متن کے علاوہ تمام نسخے تلف کر دئے گئے تھے۔علماء کی دعائیں 1947 میں سنی گئیں جبکہ بحیرہ مردار کے ساحل سے صحائف کی دریافت نے عبد عقیق کی تمام کتب پر روشنی ڈالی اور ہر کتاب کے متعلق پہلے تمام نسخوں سے ایک ہزار سال پرانے نسخے مہیا کر دیئے۔عہد عتیق کے بیسیوں نسخے صحائف سے پہلے موجود تھے۔یہ چوتھی صدی سے لے کر سولہویں صدی عیسوی تک کے ہیں۔اور مختلف زبانوں میں ہیں۔لیکن حیران کن یہ امر ہے کہ کسی بھی نسخے میں تمام کتب شامل نہیں ہیں محققین اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔کہ مختلف مکاتب فکر کے ہاں بعض کتب غیر مقدس قرار دی جاتی تھیں۔چنانچہ صحائف قمران سے آستر کی کتاب کا ابھی تک کوئی نشان نہیں ملا۔اس پر F۔Moore لکھتا ہے:۔"More likely, however, Esther was rejected