صحائف وادئ قمران — Page 51
52 اعتراض تو کئی بار محققین دہرا چکے ہیں۔چارلس پائر نے کہا ہے کہ: "And once the more intelligent laity realize the nature of the contacts of these pseudepigraphical books they will be asking۔embarrassing questions of their pastors and spiritual leaders۔" ترجمہ: اور جب ذرا ذہین عوام نے ایک دفعہ ان غیر مقدس کتابوں کے مضامین کو پہچان لیا تو وہ اپنے مرشدوں اور روحانی پیشواؤں سے حیران کن سوالات پوچھیں گے۔“ انہی پیچیدہ سوالات سے بچنے کے لئے اب روحانی پیشوا اپنے تمام وسائل کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ویسے تو صحائف کی اشاعت سے تمام مسیحی فرقوں میں رد عمل ہوا مگر رومن کیتھولک چرچ سب سے زیادہ راسخ العقیدہ ہونے کی وجہ سے اس رویے میں سب سے آگے ہے۔اور مزعومہ کفن مسیح کو آزاد محققین کے حوالے کر کے جو غلطی ان سے سرزد ہوئی تھی اب وہ اسے صحائف کے بارہ میں دہرانا نہیں چاہتے۔چنانچہ انہوں نے صحائف پر ہر رنگ میں قبضہ کرنے کی کوشش کی۔جناب ولسن لکھتے ہیں کہ دریافت کے بعد کئی سال تک صحائف فلسطین کے عجائب گھر میں پڑے رہے اس کے بعد جب لمبے لمبے وقفوں سے محققین کے نام جاری کئے جاتے تو ان کے ہمراہ وسیع و عریض ایڈیٹوریل بھی ہوتے اور ان کی قیمت اتنی زیادہ رکھی جاتی کہ ہر آدمی خرید نہ سکے پھر لکھتے ہیں: "This has all been controlled by the Ecole biblique and consequently by catholic authority۔" ترجمہ : ” یہ سارے کام ایکول بائیبلک کے ہاتھ رہا ہے۔جس کا مطلب کیتھولک اقتدار ہے۔“ صحائف پر کام کرنے والی موجودہ ٹیم میں نصف سے زیادہ محققین رومن کیتھولک ہیں۔اس کے علاوہ کیتھولک چرچ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے فراخدلی سے بھاری رقوم The last years of Jesus Revealed P-52 ↓ The dead sea scrolls 1947-69 P-151 L