صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 42 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 42

43 stagnation and darkness۔They might with justice be described as the two more fruitful centuries in religions life of thought in the history of Israel۔No new testament scholar can understand the N۔T۔as the culmination of the spiritual development of the past apart from this literature nor can the Jew explain how Talmudic Judaism came to possess its higher conceptions of the future life unless he studies this literature as the sequel of the old testament۔" ترجمہ خاص طور پر مسیحی عہد سے پہلے کی دوصدیاں خاموش صدیاں قرار دی جاتی تھیں۔یعنی ان میں کوئی تازہ آواز یا ایسی تعلیم قوم کے پاس نہیں تھی۔اس سے بڑھ کر غلط نظر یہ کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔یہ صدیاں روحانی سکوت سے اتنی دور ہیں کہ انہیں بجا طور پر اسرائیل کی تاریخ میں مذہبی حیات و فلسفہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ نمبر وار قرار دیا۔جاسکتا ہے۔نئے عہد نامے کا کوئی بھی طالبعلم ان ادب پاروں کے مطالعہ کے بغیر نئے عہد نامہ کو ماضی کی روحانی ترقی کی حیثیت سے سمجھ نہیں سکتا۔نہ ہی کوئی یہودی اس وقت تک اس امر کی وضاحت کر سکتا ہے کہ کس طرح ظالموں کی یہودیت میں اخروی زندگی کے اعلی تصورات نے جگہ پائی جب تک کہ وہ ان ادب پاروں کا مطالعہ پرانے عہد نامے کے نتیجے کے طور پر نہ کرے۔صحائف کا اثر : 1947ء میں غاروں سے حاصل ہونے والے صحائف نے علماء کے وہ دل کی آواز کا جواب دیا اور ان خاموش صدیوں کا سارا مواد ان کے سامنے رکھ دیا۔اب اپنے کانوں سے دو ہزار سال پرانی آواز کو سن سکتے ہیں۔اور بعض اہم فیصلے کر سکتے تھے۔یہ معلوم کرتے ہی کہ یہ ان دونوں صدیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ہر طرف تجسس کی ایک لہر دوڑ Religions development between the old and new testament P-115