صحائف وادئ قمران — Page 41
42 further back illuminated the Jewish background of the new testament as it had not been illuminated before۔↓ ترجمعہ: " تقریباً دس سال ہوئے جبکہ قمران کے قریب صحائف کی دریافت سے بائیل کے طلباء و محققین کی دنیا دہل گئی یہ صحائف پرانے عہد نامے کے عبرانی متن کے اکثر حصہ کو ہزار سال پہلے لے گئے۔اور نئے عہد نامے کے یہودی پس منظر پر اتنی زیادہ روشنی ڈالی کہ اس سے قبل کبھی نہ ڈالی گئی تھی۔" دو خاموش صدیاں:۔صحائف کی دریافت سے قبل کوئی بھی ایسی تحریر دنیا کے سامنے موجود نہ تھی جس سے ان حالات کا صحیح انداز و لگایا جا سکے۔جن میں عیسائیت نے جنم لیا۔اس زمانے کی تمام تحریرات کہاں گئیں ؟ علماء کو اس بارے میں بھی تشویش تھی لیکن ان کے ہاتھوں میں کچھ نہ تھا۔اس لئے وہ پہلی صدی عیسوی اور پہلی صدی قبل مسیح دونوں کو خاموش صدیاں قرار دیا کرتے تھے۔لیکن زبان سے کہنے کے باوجود اکثر علماء کے دل میں بار بار خیال پیدا ہوتا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ان صدیوں کو خاموش قرار دینا مناسب نہیں۔کیونکہ یہ دونوں صدیاں تو یہودی تاریخ کا اہم ترین موڑ ہیں۔ان میں کیا مذہبی کیا سیاسی رنگ میں قوم یہود انتہائی اہم مراحل میں سے گزری یہ ان کے دل کی آواز تھی۔جو 1914ء میں ڈاکٹر آر۔ایم۔چارلس جو کمیشن آف ویسٹ منیسٹر تھے کی زبان قلم سے ان الفاظ میں ادا ہوئی۔"These centuries especially the two preceeding in Christian era were till recently regarded as in centuries of silence during which no fresh noise a teaching of God reached the nation۔There could bardly be a more mistaken idea۔So far from being ages of spiritual The sect saying of Jwsus according to the Gasple of Thomas۔13 L