صحائف وادئ قمران — Page 40
41 صحائف کی اہمیت اور کسمپرسی عہد عتیق کے قدیم نسخے:۔عہد عتیق کی زبان عبرانی ہے۔تھوڑا سا حصہ آرامی میں ہے۔پہلی پانچ کتابیں تو رات کہلاتی ہیں۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔آپکا زمانہ آج سے تقریبا سوا تین ہزار سال قبل بنتا ہے۔لیکن دنیا میں عہد عتیق کا کوئی بھی ایسا عبرانی نسخہ نہ تھا جو دسویں صدی عیسوی سے پہلے کا ہو۔موجودہ مسورائی متن پہلی صدی عیسوی میں متعین کر دیا گیا تھا۔اس لحاظ سے بھی موجودہ نسخے بہت بعد کی تحریرات ہیں اس وجہ سے یہ سوال عام ہورہا تھا کہ یہ نسخے بائیل کا اصل متن پیش کرنے میں کہاں تک قابل اعتبار ہیں۔صحائف کی دریافت سے بائیل کی تمام کتابوں کو دو ہزار سال پرانے نسخے مکمل یا نامکمل شکل میں دنیا کے سامنے آئے اور ہمیں پہلی بار ان کی روشنی میں بائیل کے متن کی چھان بین کا موقعہ ملا جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اسی زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ بائیل کا موجودہ متن متعین کیا جارہا تھا تو انکی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے یہ صحائف پہلے سے موجود قدیم نسخوں سے بھی ایک ہزار سال پرانے ہیں۔اس لئے بائیل کا اصل متن پیش کرنے میں بہت زیادہ قابل اعتبار ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی دریافت کے بعد علماء اور عوام میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوئی۔لوگ جلد سے جلد ان کے مضامین سے آگاہ ہونا چاہتے تھے۔رابرٹ ایم گرانٹ اور ڈیوڈ نوئل فریڈ مین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔"Less than a dozen year ago the world of Bible students and scholars was shaken by the discovery of the Dead Sea Scrolls in the caves near Qumran۔These scrolls took the Hebrew text of much of the old testament a millenium