صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 29 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 29

30 تمام حربوں کو نا کام کر دے گا۔اور تیری ہی باتیں پھیلیں گی۔اور تیرے ہی مقاصد ہمیشہ ہمیش مضبوطی سے قائم رہیں گے۔عهد نامه لاوی ( بن یعقوب) یہ آرامی صحیفه غار نمبر 1 اور غار نمبر 4 سے ملا ہے اس سے قبل یہ تحریر یونانی زبان میں دنیا کے پاس موجود تھی۔اور یہ بارہ بزرگوں کی اناجیل“ نامی کتاب میں شامل تھی۔لیکن قمرانی متن اس یونانی متن سے وسیع تر ہے۔اس صحیفے کے قطعات قاہرہ سے بھی دستیاب ہوئے ہیں۔ان کا متن قمرانی متن سے ملتا جلتا ہے۔لاوی کی دعا پر مشتمل ایک ٹکڑے کی عبارت 1955ء میں ملک (Milik) نے شائع کی۔یہ دعا "بارہ بزرگوں کی انا جیل میں بھی موجود ہے۔اس سے پہلے اس دعا کو بعد کا اضافہ سمجھا جاتا تھا۔یشوع کے زبور غار نمبر 4 سے زبوروں کے بعض قطعات ملے ہیں۔جن پر یشوع کے زبور“ کا عنوان درج ہے جب ان قطعات کو ترتیب دیا گیا۔تو ان زبوروں کے ساتھ بائیبل کا ایک اقتباس بھی حاصل ہوا۔اس اقتباس سے حضرت مسیح کی آمد کا استدلال کیا گیا ہے۔ڈاکٹر ٹیٹر نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ایسینی استاد صادق" سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام ہیں۔ان زبوروں کی شناخت پر ڈاکٹر موصوف نے اس شہادت کو اپنے نظریہ کی صداقت کے زبر دست ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب تو استاد صادق کا نام یعنی یشوع بھی غاروں سے مل چکا ہے۔لیکن یہاں بھی اکثر محققین اس طرف گئے ہیں کہ یشوع سے مراد یوشع بن نون ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہلے جانشین تھے۔لیکن یہ خیال بالبداہت غلط ہے۔کاہنوں کے لئے ہیکل کا دستور العمل (Mish moroth):۔اس صحیفے کے قطعات وسیع تعداد میں غار نمبر 4 سے ملے ہیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس تحریر کے کئی نسخے اس لائبریری میں موجود تھے۔اس صحیفے میں ہیکل میں عبادت کے طریق اور کا ہن خاندانوں کی باری کے متعلق ہدایات درج ہیں ہر سال، ہر ہفتے اور خاص تہواروں کے لئے خصوصی قوانین کا صحائف قمران مصنف مکرم شیخ عبدالقادر صاحب صفحہ 109-108