صحائف وادئ قمران — Page 30
31 ذکر کیا گیا ہے۔اس قسم کا ایک اور نسخہ بھی ملا ہے۔جس میں کا بہن خاندان کی فہرست ہے۔اس میں سبت کے ایام اور مہینوں کے آغاز پر انکی باری کا اندراج ہے اسمیں بعض جگہ مہینوں کے بابلی نام بھی ملتے ہیں اور چند ایک اہم تاریخی حوالے بھی مرقوم ہیں۔یروشلم کا بیان:۔اس صحیفہ کے قطعات غار نمبر 1,2,4,5 سے ملے ہیں۔یہ آرامی زبان میں ہے۔اور مستقبل میں یروشلم اور ہیکل کی حالت کا ذکر کرتا ہے۔ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ تمام قطعات ایک ہی ہیں یا اہل قمران کے ہاں اس کے زیادہ نسخے تھے۔کتاب نوح:۔یہ عبرانی صحیفہ غار نمبر 1 سے ملا ہے۔اس کے مضامین سے محسوس ہوتا ہے کہ ”حنوک کی کتاب“ اس سے ماخوذ ہے۔اس کتاب سے ملتا جلتا ایک آرامی صحیفہ غار نمبر 6 سے بھی ملا ہے۔حنوک کی کتاب :۔یہودی تاریخ میں بہت سی ایسی کتب سے واسطہ پڑتا ہے۔جو کسی غیر معروف مصنف نے لکھیں لیکن ان کو بلند مقام دینے کے لئے کسی بزرگ یا نبی کی طرف منسوب کر دیں ایسی کتب کو (Pseude pigrapha) کا نام دیا جاتا ہے۔حنوک اسی گروہ میں شامل ہے۔صحائف کی دریافت سے قبل اس کے نسخے ایتھوپی زبان میں موجود تھے اس کا کچھ حصہ یونانی میں تھا۔اس کتاب کے بہت سے قطعات غار نمبر 4 سے ملے ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ اس کے کم از کم دس نسخے اخوت ایسین کی لائبریری میں موجود تھے۔غار نمبر 4 کے علاوہ غار نمبر 6 سے بھی اس کتاب کے متعلق لٹریچر ملا ہے۔غاروں سے ملنے والے قطعات اور متعلقہ لٹریچر سب آرامی زبان میں ہیں۔غار نمبر 4 سے اس کتاب سے ملتا جلتا ایک عبرانی صحیفہ بھی ملا ہے۔یہ صحیفہ مکاشفات پر مشتمل ہے۔بائیبل کے صحیفے سینائی(Codex Sinaiticus) میں حنوک کو مقدس قرار دیا گیا ہے اور یہ کتاب مقدس میں شامل ہے۔لیکن چوتھی صدی عیسوی میں جبکہ عیسائیت میں روح القدس، کفارہ اور کنواری مریم کے عقائد شامل کئے گئے تو اس کتاب کو جو حضرت مسیح علیہ السلام اور پولوس کا جز وزندگی بن چکی تھی، کتاب مقدس سے خارج کر دیا گیا اور ساتھ ہی اس کے تمام نسخے تلف کر دئے